امام حسینؓ سے محبت — ایک سچی وابستگی کی کہانی
جو حسینؓ سے محبت کرے، وہ نبی ﷺ سے محبت کرتا ہے
میں جب بھی امام حسین رضی اللہ عنہ کا نام سنتا ہوں، دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ نہ یہ غم صرف ماتم کا ہے، نہ یہ محبت صرف رسمی ہے۔ یہ ایک ایسی وابستگی ہے جو دل کی گہرائیوں سے جنم لیتی ہے، اور جب میں ان کی قربانی کے بارے میں سوچتا ہوں تو آنکھیں خود بخود بھیگ جاتی ہیں۔ یہ تحریر میں نے اپنے دل کی اسی کیفیت کو الفاظ دینے کے لیے لکھی ہے۔
محبت کی بنیاد کیا ہے؟
میں امام حسینؓ سے محبت کرتا ہوں، اور اس محبت کی بنیاد میرا اپنا کوئی خیال نہیں بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ آپ ﷺ نے حسینؓ کو اپنا، اور حسینؓ سے محبت کرنے والے کو اپنا محبوب قرار دیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ جب نبی ﷺ خود اپنے نواسے سے محبت کا اظہار فرماتے ہیں، تو امت کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ اہل بیت سے محبت دین کا حصہ ہے، نہ کہ کوئی اضافی یا ثانوی چیز۔
کربلا — قربانی کا وہ باب جو رہتی دنیا تک یاد رہے گا
کربلا کا واقعہ صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، یہ حق اور باطل کے فرق کو سمجھانے کا ایک معیار ہے۔ امام حسینؓ نے اس وقت سچائی پر ڈٹے رہنے کا انتخاب کیا جب باطل اپنی پوری طاقت کے ساتھ سامنے کھڑا تھا۔ انہوں نے اپنی جان، اپنے اہل و عیال، اور اپنے ساتھیوں کی قربانی دی، مگر باطل کے سامنے سر نہ جھکایا۔ یہی وہ سبق ہے جو مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے — کہ سچائی کی قیمت کبھی کبھی سب کچھ ہوتی ہے، اور حسینؓ نے وہ قیمت ادا کر کے دکھائی۔
جب میں یہ سوچتا ہوں کہ ایک طرف چھوٹے بچے پانی کے لیے تڑپ رہے تھے، اور دوسری طرف ان کے بزرگ صبر اور استقامت کی ایک ایسی مثال قائم کر رہے تھے جو قیامت تک یاد رہے گی، تو دل بے اختیار رو دیتا ہے۔ یہ آنسو میرے ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ اس محبت کا اظہار ہیں جو میرے دل میں اہل بیت کے لیے موجود ہے۔
محبت اور ماتم میں فرق
یہاں میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں جو میرے لیے بہت اہم ہے۔ میں امام حسینؓ سے محبت کرتا ہوں، ان کی قربانی پر آنسو بہاتا ہوں، مگر میں ماتم نہیں کرتا۔ اس کی وجہ میری اپنی پسند نہیں، بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے۔
یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ غم کا اظہار اسلام میں جائز ہے، مگر اس کی ایک حد ہے۔ صبر، دعا، آنسو، اور دل کی گہرائی سے محبت — یہ سب درست راستے ہیں۔ مگر اپنے جسم کو نقصان پہنچانا، چیخ و پکار کرنا، یا جاہلیت کے انداز میں ماتم کرنا، یہ وہ راستہ نہیں جو نبی ﷺ نے سکھایا۔ میرے نزدیک حسینؓ سے سچی محبت یہ ہے کہ ہم ان کی سیرت پر عمل کریں، ان کے صبر سے سبق لیں، اور ان کی قربانی کو اپنی زندگی میں حق پر ڈٹے رہنے کی تحریک بنائیں۔
دل کا غم اور آنکھ کا آنسو
میں یہ مانتا ہوں کہ جب کوئی شخص امام حسینؓ کی شہادت کا واقعہ پڑھتا یا سنتا ہے، اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ جاتے ہیں، تو یہ ایمان کی نشانی ہے، نہ کہ کوئی خامی۔ آنسو دل کی نرمی کو ظاہر کرتے ہیں، اور دل کی نرمی نبی ﷺ کو پسند تھی۔ مگر اس غم کو ہمیں عبادت اور صبر کے دائرے میں رکھنا چاہیے، نہ کہ اسے ایسی رسومات کا حصہ بنا دیں جن سے نبی ﷺ نے خود منع فرمایا۔
میرے خیال میں سب سے بڑی محبت یہ ہے کہ ہم حسینؓ کی طرح سچائی پر قائم رہیں، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔ ان کی قربانی کو صرف یاد منانے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنے کردار میں شامل کریں — حق گوئی، استقامت، اور اللہ پر کامل بھروسہ۔
اختتامی بات
امام حسین رضی اللہ عنہ کی محبت میرے دل میں اس لیے ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے خاندان کا حصہ تھے، اور ان سے محبت دین کا تقاضا ہے۔ میں ان کی قربانی پر روتا ہوں، ان کے صبر سے سیکھتا ہوں، اور ان کے راستے کو حق کا راستہ سمجھتا ہوں۔ مگر اس محبت کے اظہار میں میں اسی حد کو اپنانے کی کوشش کرتا ہوں جو نبی کریم ﷺ نے ہمیں سکھائی۔ یہی، میرے نزدیک، حسینؓ سے سچی محبت کا راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حسینؓ کی محبت کے ساتھ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔








