یوم شہادتِ امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ
آج وہ دن ہے جس کا ذکر کرتے ہوئے دل بھر آتا ہے، آنکھ نم ہو جاتی ہے۔ آج حضرت عمر فاروقؓ کی یومِ شہادت ہے۔ وہ عمرؓ جن کے انصاف کی گواہی صرف انسانوں نے نہیں دی، خود فضا نے دی، زمین نے دی، آگ اور پانی نے دی۔ یہ تحریر اسی عدل و انصاف کی کہانی ہے جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئی۔
میں جب بھی حضرت عمر فاروقؓ کا نام سنتا ہوں، دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی پہاڑ جیسا کردار، جس کے سامنے بادشاہ بھی لرز جاتے تھے، مگر جس کی آنکھوں میں ایک یتیم کے لیے بھی وہی نرمی تھی جو اپنی اولاد کے لیے ہوتی ہے۔ آج کے دن، یعنی یومِ شہادت کے موقع پر، میں نے سوچا کہ ان کے انصاف کے کچھ ایسے واقعات آپ کے ساتھ شریک کروں جو ہمیں سکھاتے ہیں کہ حکمران کیسا ہونا چاہیے۔
عدل وہ جس کی گواہی فطرت نے دی
روایات میں ملتا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کا انصاف اس درجہ کامل تھا کہ کائنات کی چار بنیادی قوتیں، یعنی ہوا، پانی، مٹی اور آگ، سب نے ان کی حکمرانی کے سامنے سرِتسلیم خم کیا۔ ہوا میں ان کی حکومت کا یہ منظر تھا کہ خطبہ کے دوران ایک پہاڑ کے پیچھے سے دشمن کا لشکر حملے کی تیاری میں تھا، اور دور مدینہ منورہ میں خطبہ دیتے ہوئے حضرت عمرؓ کی آواز نے ہوا کے ذریعے یہ پیغام ساریہ کے لشکر تک پہنچا دیا کہ پیچھے سے ہوشیار رہو۔ یہ منظر سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کس طرح ایک خادمِ امت کی للہیت کو فضا نے بھی سن لیا۔
زمین میں ان کی حکمرانی کا منظر یہ تھا کہ ایک بار زلزلہ آیا تو حضرت عمرؓ نے زمین پر کوڑا مار کر فرمایا کہ کیا میں تجھ پر انصاف نہیں کر رہا؟ اور وہ زلزلہ تھم گیا۔
آگ کے معاملے میں بھی ایک نہایت دلچسپ روایت ملتی ہے۔ ایک بار آگ کا ایک شعلہ نکلا جو بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ حضرت عمرؓ نے حضرت تمیم داریؓ سے فرمایا کہ کوڑا اٹھاؤ اور اس آگ کو واپس اسی جگہ لے جاؤ جہاں سے یہ نکلی تھی۔ حضرت تمیم داریؓ اس آگ کو دھکیلتے دھکیلتے بالآخر اسی مقام پر واپس لے گئے جہاں سے وہ نکلی تھی۔ یہ سب واقعات اگرچہ سینہ بہ سینہ روایات اور سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں، اور علماء نے ان کی اسناد پر مختلف رائے دی ہے، مگر ان کا پیغام واضح ہے کہ جب حکمران اللہ سے ڈرنے والا ہو تو اس کی برکت ہر چیز میں نظر آتی ہے۔
دریائے نیل کا قصہ اور عمرؓ کا خط
پانی کے بارے میں جو واقعہ سب سے زیادہ مشہور اور دل کو چھو لینے والا ہے وہ دریائے نیل کا ہے۔ مصر فتح ہونے کے بعد جب حضرت عمرو بن العاصؓ وہاں کے والی مقرر ہوئے تو دریائے نیل اپنے وقت پر نہیں چڑھا۔ اہلِ مصر نے بتایا کہ ان کے ہاں ایک پرانا اور بھیانک رسم تھا کہ ہر سال ایک کنواری لڑکی کو دریا میں قربان کیا جاتا تھا، تب ہی دریا چلتا تھا۔ یہ سن کر حضرت عمرو بن العاصؓ نے اس ظالمانہ رسم کو فوراً روک دیا، مگر دریا خشک ہی رہا۔
انہوں نے یہ پورا واقعہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کو لکھ بھیجا۔ حضرت عمرؓ نے جواب میں ایک پرچی لکھی جس پر یہ الفاظ تھے کہ اے نیل، اگر تو اپنی مرضی سے چلتا ہے تو ہمیں تیری ضرورت نہیں، اور اگر تجھے اللہ واحد و قہار چلاتا ہے تو ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تجھے جاری رکھے۔ یہ پرچی دریا میں ڈالی گئی، اور روایات کے مطابق ایک ہی رات میں دریائے نیل سولہ ہاتھ بلند ہو گیا اور وہ ظالمانہ رسم ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔
یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ علمائے کرام نے اس قصے کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے، یعنی روایت کا سلسلہ مکمل طور پر مستند نہیں، مگر امام ابنِ کثیرؓ اور دیگر اہلِ علم نے اسے سیرتِ فاروقی کے ضمن میں قابلِ بیان واقعہ کے طور پر نقل کیا ہے۔ ہمیں اس سے سبق یہ لینا چاہیے کہ اسلام نے ہر اس ظالمانہ رسم کو رد کیا جو انسانیت کی توہین کرے، اور ایک سچے حکمران کا کام یہی ہے کہ وہ باطل رسموں کو ختم کر کے اللہ پر بھروسہ سکھائے۔
انسان بھی انہی چار عناصر سے بنا ہے
غور کریں تو انسان کی تخلیق بھی انہی چار چیزوں سے ہوئی ہے، یعنی ہوا، پانی، مٹی اور آگ۔ شاید یہی راز ہے کہ جس بندے کا تعلق اپنے خالق سے سچا ہو جائے، اسی کے سامنے یہ عناصر بھی سرنگوں ہو جاتے ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقت اور اقتدار اصل میں اللہ کی امانت ہے، اور جو اسے امانت سمجھ کر نبھائے، فطرت بھی اس کا ساتھ دیتی ہے۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ آج کے دور میں ہم انصاف کی کیسی تلاش میں ہیں، اور پھر یہ واقعات پڑھ کر دل کو تسلی ملتی ہے کہ کبھی ایسے حکمران بھی اس امت میں گزرے ہیں جو رات کو خود گشت لگاتے، اپنے کاندھے پر آٹے کی بوری اٹھا کر بھوکے کے گھر پہنچاتے، اور خود سے سوال کرتے کہ کیا میں اپنی رعایا کے ساتھ انصاف کر رہا ہوں۔ یہی وہ کردار تھا جس نے دنیا کو بتایا کہ اسلامی حکمرانی کا اصل چہرہ کیا ہوتا ہے۔
سنبھال کے رکھو یہ فرقے تمہارے ہیں
عمرؒ بھی ہمارے، حسینؒ بھی ہمارے ہیں
یہی وہ پیغام ہے جو آج کے دن ہمیں یاد رکھنا چاہیے۔ امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت ہمیں سکھاتی ہے کہ عدل، للہیت اور خوفِ خدا کسی ایک مسلک یا گروہ کی میراث نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا سرمایہ ہے۔ عمرؓ کا انصاف اور حسینؓ کی قربانی، دونوں ہی ہمارے دین کا حصہ ہیں اور دونوں سے محبت ایمان کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان مقدس ہستیوں کی سیرت سے سچی محبت اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں