مسجد کی حرمت اور معصوموں کا لہو: آپریشن سندور کا دردناک سانحہ
اللہ کے گھر میں اذان گونجی تھی۔
فجر کا وقت تھا — وہ مقدس گھڑی جب رات کی سیاہی ابھی ختم نہیں ہوئی ہوتی اور دن کی روشنی ابھی آئی نہیں ہوتی۔ وہ لمحہ جب آسمان اور زمین کے درمیان پردہ سب سے پتلا ہوتا ہے، جب بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے، جب دعا سیدھی عرش تک جاتی ہے۔ مسجد کی صفیں بھری تھیں۔ جائے نمازیں بچھی تھیں۔ ہر طرف سکوت تھا — وہ سکوت جو عبادت میں ہوتا ہے، جو روح کو تازہ کرتا ہے۔
سات سال کا حذیفہ اپنے ابو کی انگلی تھامے پہلی صف میں کھڑا تھا۔ اس کے چھوٹے چھوٹے پاؤں جائے نماز پر جمے تھے۔ اس کی آنکھیں بند تھیں — شاید وہ اپنے معصوم دل میں کوئی دعا مانگ رہا تھا۔ ابھی کچھ دن پہلے اس نے اپنے ابو کی گود میں بیٹھ کر کہا تھا: *"ابو، میں بھی بڑا ہو کر حافظ بنوں گا، پھر آپ کو روز قرآن سناؤں گا۔"* ابو نے اسے سینے سے لگایا تھا اور آنکھیں بھیگ گئی تھیں — خوشی سے۔
نو سال کی عائشہ مدرسے میں آئی تھی۔ اس کے بستے میں نئی تختی تھی — آج پہلی بار استعمال ہونی تھی۔ اس کی ماں نے صبح اٹھا کر دودھ پلایا تھا، دوپٹہ درست کیا تھا اور کہا تھا: *"جاؤ بیٹا، خوب پڑھنا آج۔"* عائشہ مسکراتی ہوئی گئی تھی۔
پھر آسمان پھٹا۔
---
آپریشن سندور کے نام پر گولے برسے۔ زمین کانپی۔ مسجد کا مینار جو برسوں سے اذان کی آواز بلند کرتا آیا تھا — ایک لمحے میں ڈھیر ہو گیا۔ قرآن پاک کے مقدس اوراق ہوا میں بکھرے — وہ الفاظ جنہیں بچوں نے محبت سے یاد کیا تھا، وہ سطریں جن پر انگلیاں پھیری تھیں — خاک میں مل گئے۔ اور جائے نمازیں — جہاں ابھی ماتھے ٹکے تھے، جہاں ابھی سجدے ہوئے تھے — خون سے سرخ ہو گئیں۔
حذیفہ کے ابو نے دھوئیں میں اپنے بیٹے کو ڈھونڈا۔ ملا تو اس کے کپڑے خون میں تھے۔ وہ باپ جو کبھی اپنے بیٹے کی ایک آواز پر پگھل جاتا تھا، جو اس کے ہر خواب پر مسکراتا تھا — اب خاموش تھا۔ وہ خاموشی جو چیخ سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے، جو سینے میں پتھر بن کر اترتی ہے اور پھر کبھی نہیں نکلتی۔
عائشہ کی ماں نے ملبے میں بستہ ڈھونڈا۔ نئی تختی ابھی بھی صاف تھی۔ اس پر کچھ نہیں لکھا گیا تھا — جیسے وہ زندگی جو ابھی لکھی جانی تھی، جو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی۔ ماں نے تختی سینے سے لگائی اور اس کا رونا ایسا تھا جیسے آسمان بھی سن رہا ہو۔
---
## اسلام اور مسجد کی حرمت
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
*"اور مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔"*
*(سورۃ الجن: ١٨)*
اور ایک اور جگہ فرمایا:
*"اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے روکے اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کرے۔"*
*(سورۃ البقرہ: ١١٤)*
یہ صرف الفاظ نہیں — یہ اللہ کا فیصلہ ہے۔ مسجد وہ جگہ ہے جہاں گناہگار بھی پناہ لیتا ہے، جہاں ٹوٹا ہوا دل جڑتا ہے، جہاں بچہ پہلی بار "اللہ" کا نام سیکھتا ہے۔ اس گھر کو نشانہ بنانا صرف اینٹ اور پتھر کو نہیں توڑتا — یہ لاکھوں دلوں کو توڑتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے میدان میں بھی عبادت گاہوں کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے شام کی جانب لشکر روانہ کرتے وقت فرمایا: *"عبادت گاہوں کو ہاتھ مت لگانا، عبادت کرنے والوں کو نقصان مت پہنچانا۔"* یہ اسلام کا قانون جنگ ہے — جب دشمن کی عبادت گاہ بھی محفوظ ہو، تو مسلمانوں کی مسجد پر حملہ کس قانون کے تحت جائز ہو سکتا ہے؟
---
## بچے اللہ کی امانت ہیں
رسول اللہ ﷺ بچوں سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ آپ ﷺ نماز میں ہوتے اور امام حسن یا امام حسین آپ کی پشت پر آ جاتے تو آپ سجدہ لمبا کر دیتے — اس لیے کہ بچے کو تکلیف نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: *"جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔"*
جنگ بدر ہو یا احد، خندق ہو یا حنین — ہر موقع پر آپ ﷺ نے عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا۔ یہاں تک کہ درخت کاٹنے اور فصلیں جلانے سے بھی روکا — کیونکہ جنگ انسانوں سے ہوتی ہے، معصوموں سے نہیں۔
تو وہ بچے جو فجر کی نماز میں کھڑے تھے، جو قرآن پڑھ رہے تھے، جن کے ہاتھوں میں تختیاں تھیں — وہ کس جنگ میں فریق تھے؟ وہ کس خطرے کا نشانہ تھے؟ ان کا جرم کیا تھا؟ صرف یہ کہ وہ اللہ کے گھر میں بیٹھے تھے؟
---
## وہ صبح جو شام ہو گئی
اس حملے کے بعد گاؤں میں کہرام مچ گیا۔ جنازے اٹھے تو پورا علاقہ سوگوار تھا — وہ خاموشی جو رونے سے بھی بھاری ہوتی ہے۔ بوڑھے باپوں کی سفید داڑھیاں آنسوؤں سے بھیگی تھیں۔ ماؤں کے بین آسمان تک اٹھتے تھے۔ اور وہ بچے جو بچ گئے تھے — وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ ان کے ساتھی کہاں گئے، وہ کل تک ساتھ کھیلتے تھے، آج کیوں نہیں آئے۔
ایک ماں نے کہا: *"میرا بچہ صبح گیا تھا — مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ آخری صبح ہے۔"*
یہ جملہ الفاظ میں نہیں آتا۔ یہ صرف محسوس ہوتا ہے — اور جو محسوس کرے، اس کا دل ضرور روتا ہے۔
---
## ہمارا ردعمل کیا ہونا چاہیے
رونا ضرور — کیونکہ جس دل میں درد نہ ہو وہ پتھر ہے۔ لیکن صرف رونا کافی نہیں۔
**صبر اور دعا:** قرآن کہتا ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ شہداء کے لیے مغفرت مانگو، زخمیوں کے لیے شفا مانگو۔ اللہ سے مانگو کہ وہ مظلوموں کا حامی بنے — کیونکہ مظلوم کی آہ عرش کو ہلا دیتی ہے۔
**اتحاد:** دشمن کا مقصد ہمیں تقسیم کرنا ہے۔ فرقے، زبانیں، سیاسی اختلافات — آج یہ سب پیچھے رکھو۔ جب مسجد جلتی ہے تو وہ کسی ایک فرقے کی نہیں جلتی — وہ پوری امت کی جلتی ہے۔
**آواز بلند کرنا:** دنیا کو بتاؤ کہ مسجد اور بچوں پر حملہ جنیوا کنونشن کی، انسانی حقوق کی اور ہر الہامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سوشل میڈیا، خطبات، تحریروں اور پرامن احتجاج سے مظلوموں کی آواز بنو۔
**اپنے بچوں کی تربیت:** انہیں قرآن سکھاؤ، سیرت سکھاؤ، یہ بھی سکھاؤ کہ ظلم کا جواب نفرت سے نہیں — عدل، صبر اور حکمت سے دیا جاتا ہے۔ حذیفہ اور عائشہ کے خواب ادھورے رہ گئے — لیکن ہمارے بچے ان کے خواب آگے لے جا سکتے ہیں۔
**قانونی محاذ:** حکومت اور اداروں کا فرض ہے کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی میں یہ مقدمہ پیش کریں — تاکہ دنیا اصل چہرہ دیکھے۔
---
## خاتمہ
مسجد کی اینٹ اینٹ گواہ ہے — یہاں صرف اللہ کا نام لیا جاتا تھا۔
حذیفہ اور عائشہ کا خون گواہ ہے — وہ بے گناہ تھے۔
اور تاریخ گواہ ہے — فرعون بھی غرق ہوا، نمرود بھی مٹا، ہر ظالم کا انجام برا ہوا۔ آپریشن سندور کا نام تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر لکھا جائے گا۔
لیکن حذیفہ کا خواب — *"ابو میں حافظ بنوں گا"* — یہ سیاہ باب میں نہیں لکھا جائے گا۔ یہ روشن حروف میں لکھا جائے گا۔ یہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ ہمیں کیوں جینا ہے، کیوں لڑنا ہے، کیوں اللہ کے گھر کی حفاظت کرنی ہے۔
ہمیں اس سانحے کو نفرت کے لیے نہیں — اتحاد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اپنی صفیں درست کرنی ہیں۔ دین سے مضبوط تعلق جوڑنا ہے۔ اور دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ دلیل سے پیش کرنا ہے۔
*اللہ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ زخمیوں کو شفائے کاملہ دے۔ اور ہمیں مسجد اور معصوموں کی حرمت کا سچا محافظ بنائے۔*
**آمین یا رب العالمین۔**

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں