ماں کی نظر اور اندر کی خوبصورتی

خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہے

ایک ماں کی نظر، ایک بیٹے کا سفر

"تم خوبصورت ہو۔" یہ وہ جملہ ہے جو میری ماں نے نہ جانے کتنی بار، نہ جانے کتنے لوگوں سے کہا ہوگا۔ گلی کے نکڑ پر بیٹھی بوڑھی خالہ سے، ہمارے محلے کے اس چاچا سے جس کے چہرے پر چیچک کے داغ تھے، اس رشتے دار سے جسے لوگ پیٹھ پیچھے مذاق کا نشانہ بناتے تھے۔ میں چھوٹا تھا تو یہ سن کر حیران ہو جاتا۔ میں سوچتا، "دنیا میں ماں انہیں خوبصورت کیسے کہہ سکتی ہے؟" میں ایک منطقی اور حساب کتاب والا لڑکا تھا۔ میں چیزوں کو اسی طرح دیکھتا جیسے وہ ظاہری آنکھ کو نظر آتی تھیں، نہ کم نہ زیادہ۔ اور مجھے وہاں خوبصورتی نظر نہیں آتی تھی۔

پھر بھی میری والدہ یہ بات اس جوش، اس گرم جوشی کے ساتھ کہتیں جیسے وہ خود اسے محسوس کر رہی ہوں۔ ان کی آواز میں کوئی بناوٹ نہ ہوتی۔ وہ یہ کسی غرض سے نہیں کہتیں تھیں، کسی سے کچھ لینے کے لیے نہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ زیادہ تر وہی لوگ تعریف کرتے پھرتے ہیں جو دراصل کچھ لینے کی نیت رکھتے ہیں۔ لیکن میری ماں کا معاملہ الگ تھا۔ برسوں تک میں سوچتا رہا کہ آخر ماں کی نظر میں کیا خرابی ہے۔ کیا وہ یہ نہیں دیکھ پاتیں کہ جن لوگوں کو وہ خوبصورت کہتی ہیں، دنیا کے معیار کے مطابق وہ خوبصورت نہیں ہیں؟

میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس دنیا کے بنائے ہوئے پیمانوں میں گزارا ہے — گورا رنگ، تیکھے نقوش، فیشن میگزین کے سرورق، وہ چہرے جنہیں دنیا نے "خوبصورت" کا لقب دے رکھا ہے۔ میرا خیال تھا کہ خوبصورتی کوئی ایسی چیز ہے جو صرف چند خوش نصیبوں کو ملتی ہے، باقی سب اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ لیکن جب میری ماں بات کرتیں تو لوگوں کے چہرے یوں چمک اٹھتے جیسے کسی رسالے نے انہیں سال کے سب سے خوبصورت افراد کی فہرست میں شامل کر لیا ہو۔ آخرکار، برسوں بعد، مجھے سمجھ آیا کہ ماں کی نظر اور ان کے اس جملے میں کیا راز چھپا تھا: "خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہے۔"

نظر نظر کا فرق ہے ورنہ ہر شے میں جمال ہے دل ہو روشن جس کا، اسے ہر چہرہ نکھرا نکھرا لگے

میری ماں کی روح میں ایک ایسی نظر تھی جو انسان کے اندر کی خوبصورتی دیکھ سکتی تھی۔ ہم میں سے اکثر صرف باہر دیکھتے ہیں، اور جو دیکھتے ہیں اسے دنیا کے بنائے ہوئے معیاروں سے تولنے لگتے ہیں۔ میں بھی یہی کرتا تھا۔ اب جب میں دن بھر بائیک پر شہر کی گلیوں میں کھانا پہنچاتا پھرتا ہوں، مجھے ہر روز سینکڑوں چہرے دیکھنے کو ملتے ہیں — تھکا ہوا دربان جو رات کے بارہ بجے گیٹ کھولتا ہے، وہ بوڑھی عورت جو اپنے پوتے کے لیے آرڈر لیتی ہوئی مسکراتی ہے، وہ مزدور جو دن بھر کی مشقت کے بعد سڑک کنارے بیٹھا اپنے موبائل پر گھر والوں سے بات کر رہا ہوتا ہے۔ پہلے میں ان کے پاس سے یونہی گزر جاتا تھا۔ اب میں رکتا ہوں، دیکھتا ہوں، اور واقعی دیکھتا ہوں۔

آج آپ بھی جب اپنے گھر سے نکلیں تو پہلا شخص جو آپ کو نظر آئے، اسے غور سے دیکھیں اور تلاش کریں کہ وہ کتنا خوبصورت ہے۔ ہو سکتا ہے وہ گنجا ہو، موٹا ہو، چہرے پر جھریاں ہوں، یا کوئی اور چیز ہو جسے دنیا خوبصورتی کے دائرے سے باہر سمجھتی ہے۔ اسے قریب سے دیکھیں اور خوبصورتی تلاش کریں۔ یقین کریں، اگر آپ واقعی دیکھیں گے تو آپ کو ضرور نظر آئے گی۔ مجھے بھی پہلے اس پر یقین نہیں آیا تھا، جب تک میں نے خود آزما کر نہ دیکھا۔ اور جیسے ہی میں نے غور سے دیکھنا شروع کیا، مجھے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبصورتی نظر آنے لگی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کتنا ہی تھکا ہوا، رنگت بگڑی ہوئی یا زندگی کی سختیوں سے پہنا ہوا نظر آتا ہے — ہر درد کی لکیر میں بھی ایک الگ حسن پوشیدہ ہوتا ہے۔ بس اسے تلاش کرنے کی ضرورت ہے، وہ وہیں موجود ہے۔

میری ماں کہا کرتیں: "شہد کی مکھی کی طرح بنو، جو ہمیشہ خوبصورت پھولوں پر بیٹھتی ہے۔" یعنی نگاہ کو اچھائی، عمدگی اور خوبی کی طرف مائل رکھو، عیب اور خرابی کی طرف نہیں۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ یہ ایک زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔ اور اسلام نے بھی ہمیں یہی سکھایا ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔"

ایک اور مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن خوبصورت ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے خوبصورت اخلاق سے نوازا ہے۔ یہ سن کر مجھے سمجھ آیا کہ اصل خوبصورتی کا تعلق کردار سے ہے، رنگت یا نقش و نگار سے نہیں۔ ایک نرم دل، ایک سچا رویہ، ایک دوسرے کا خیال رکھنا — یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی چہرے کو حقیقی معنوں میں روشن کرتی ہیں۔

قرآن پاک بھی ہمیں بار بار ان خوبصورت نعمتوں کو یاد کرنے اور ان کی قدر کرنے کی تلقین کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"اور اپنے رب کی نعمت کا ذکر کرتے رہو۔" (سورۃ الضحیٰ، آیت 11)

اللہ سبحانہ و تعالیٰ خود اپنی خوبصورت تخلیقات کا ذکر فرماتا ہے اور ان کی تعریف بیان کرتا ہے۔ انہی میں سے اس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں، جن کے بارے میں فرمایا گیا: "اور ہم نے تیرا ذکر بلند کر دیا۔" (سورۃ الشرح، آیت 4) اور یہ بھی فرمایا: "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔" (سورۃ الاحزاب، آیت 56)

جب میں یہ سب سوچتا ہوں تو مجھے اپنی روز کی زندگی سمجھ آنے لگتی ہے۔ میں ایک عام آدمی ہوں، دن بھر بائیک چلا کر رزق کماتا ہوں، دھوپ میں، بارش میں، گرمی اور سردی میں۔ کبھی کبھار تھکن اتنی ہو جاتی ہے کہ لگتا ہے آنکھیں بند کر لوں۔ لیکن جب میں کسی گھر کے دروازے پر کھانا پہنچاتا ہوں اور کوئی چھوٹا بچہ خوشی سے چلاتا ہوا باہر آتا ہے، یا کوئی بزرگ مسکرا کر "بیٹا شکریہ" کہتا ہے، تو مجھے لگتا ہے کہ اس چھوٹے سے لمحے میں بھی ایک خوبصورتی چھپی ہوئی ہے۔ زندگی کی اصل برکت انہی چھوٹے لمحوں میں پوشیدہ ہے، بس نظر چاہیے جو انہیں پہچان سکے۔

میں نے سیکھا ہے کہ جو لوگ صرف خامیاں تلاش کرتے ہیں، وہ خامیاں ہی پاتے ہیں۔ اور جو خوبیاں تلاش کرتے ہیں، انہیں ہر جگہ خوبی نظر آتی ہے۔ یہ نظر کا فرق ہے، دنیا کا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں کچھ نہ کچھ حسن رکھا ہے — کسی کی آنکھوں میں محبت، کسی کے ہاتھوں میں محنت، کسی کے لہجے میں سچائی۔ بس ہمیں شہد کی مکھی بننا ہے، کانٹوں پر نہیں، پھولوں پر بیٹھنا ہے۔

پیارے قارئین، آج جب آپ اپنے گھر سے نکلیں تو ہر انسان کو غور سے دیکھیں۔ آپ کو ہر اس شخص میں بھی خوبصورتی نظر آنے لگے گی جسے آپ نہیں جانتے تھے۔ مجھ پر بھروسہ کریں اور خود آزما کر دیکھیں۔ اگر آپ خلوصِ دل سے دیکھیں گے تو ضرور دیکھیں گے۔ اور جب آپ دن بھر دنیا کی خوبصورتی دیکھ کر گھر لوٹیں، تو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو بھی دیکھیں۔ تم خوبصورت ہو۔ اور اس خوبصورتی کا شکریہ ادا کریں جو آپ نے نہ صرف دیکھی، بلکہ اپنے دل میں شامل بھی کی۔

اے اللہ! ہماری آنکھوں کو وہ نور عطا فرما جس سے ہم تیری مخلوق میں چھپی خوبصورتی دیکھ سکیں، اور ہمارے دلوں کو ایسا نرم فرما کہ ہم دوسروں کی خامیوں سے پہلے ان کی خوبیوں کو دیکھیں۔ آمین۔

علاؤالدین کی کہانی

علاؤ الدین کی کہانی – ایک ویڈیو جس نے دل موہ لیا

علاؤ الدین اور جادوئی چراغ – ایک ویڈیو جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا

ایک پرانی کہانی، لیکن سبق آج بھی وہی

کل رات کام سے واپسی پر، جب موٹر سائیکل کھڑی کر کے تھوڑی دیر آرام کر رہا تھا، میں نے موبائل پر ایک ویڈیو دیکھی۔ ویڈیو علاؤ الدین اور جادوئی چراغ کی مشہور کہانی پر بنی تھی۔ بچپن میں یہ کہانی کہیں سنی تھی، مگر آج جب دوبارہ دیکھی تو ایک الگ ہی نظر سے دیکھنے کو ملی۔ سوچا کیوں نہ یہ کہانی اپنے الفاظ میں آپ سب کے ساتھ بھی شیئر کروں، کیونکہ اس میں صرف جادو اور شہزادیوں کا قصہ نہیں، بلکہ محنت، صبر اور تقدیر کا ایک گہرا سبق بھی چھپا ہوا ہے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ مشرق کے کسی دور دراز علاقے میں ایک رات گہرا اندھیرا چھایا ہوا تھا، اور ریت کا طوفان چل رہا تھا۔ اسی رات کے آخری پہر میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام علاؤ الدین رکھا گیا۔ نہ اسے کوئی جانتا تھا، نہ کسی کو خبر تھی کہ یہ بچہ آگے چل کر کیسی زندگی گزارے گا۔ وہ اپنی والدہ کے سائے میں غریبی میں پلا بڑھا، اور اسی علاقے کی تنگ گلیوں میں اپنا بچپن گزارا۔

عجیب بات یہ ہے کہ اسی رات، اسی شہر میں، بادشاہ کے محل میں ایک خوبصورت شہزادی، یاسمین، بھی پیدا ہوئی۔ وہ اپنے ننھے سے پالتو پرندے کے ساتھ محل کی رونقوں میں پلی، مگر اس کا دل ہمیشہ کسی اور دنیا کو دیکھنے کے لیے تڑپتا تھا۔ وہ اکثر نقاب اوڑھ کر بازار نکل جاتی، تاکہ عام لوگوں کی طرح آزادی سے چل پھر سکے، اور کوئی اسے پہچان نہ سکے۔

ادھر علاؤ الدین اپنی ماں کا سہارا بننے کے لیے روزانہ بازار میں مزدوری کرتا اور جو کچھ کما پاتا، گھر لے آتا۔ ایک دن وہ بازار سے گزر رہا تھا کہ ایک عجیب و غریب شکل کے آدمی نے اسے آواز دی۔ علاؤ الدین نے سوچا شاید اسے نہیں بلایا جا رہا، مگر جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ آدمی واقعی اسی کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ قریب جانے پر اس آدمی نے سرگوشی میں کہا کہ اگر وہ اس کا ایک چھوٹا سا کام کر دے تو بدلے میں اسے سونے کا ایک صندوق ملے گا۔

یہاں مجھے رک کر سوچنا پڑا۔ کتنی بار ہماری زندگی میں بھی ایسے لوگ آتے ہیں جو ہمیں جلد امیر بننے کے، آسان راستے کے، بغیر محنت کے فائدے کے خواب دکھاتے ہیں۔ علاؤ الدین کے ذہن میں بھی یہی خیال آیا کہ اگر اس نے یہ کام کر دیا تو شاید وہ اور اس کی ماں بغیر محنت کیے سکون سے زندگی گزار سکیں گے۔ غربت انسان کو کبھی کبھار ایسی پیشکشوں کے آگے کمزور کر دیتی ہے، اور یہی وہ لمحہ تھا۔

اس آدمی نے علاؤ الدین کو رسی سے باندھ کر ایک گہرے کنویں میں اتار دیا۔ نیچے اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس نے جیب سے ماچس نکالی اور جلائی، تو اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں۔ چاروں طرف ہیرے، جواہرات اور سونا بکھرا پڑا تھا۔ اسی خزانے کے درمیان اسے ایک پرانا سا چراغ ملا، وہی چراغ جس کا اس آدمی نے ذکر کیا تھا۔

علاؤ الدین نے اوپر آواز دی کہ چراغ مل گیا ہے۔ آدمی نے جلدی سے رسی نیچے پھینکی، مگر جیسے ہی علاؤ الدین کنویں کے منہ کے قریب پہنچا، اس آدمی نے چراغ چھیننے کی کوشش کی اور اسے دھکا دے کر واپس گرا دیا۔ چراغ بھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر علاؤ الدین کے سر پر جا لگا۔ آدمی غصے میں بپھر گیا اور کوئی اور ترکیب سوچنے لگا۔

کئی دن علاؤ الدین اسی کنویں میں پھنسا رہا۔ مدد کے لیے پکارتا رہا، مگر کوئی سننے والا نہ تھا۔ یہ حصہ سنتے ہوئے مجھے اپنی زندگی کے وہ لمحات یاد آئے جب حالات بہت مشکل لگتے ہیں، جب دعا کے باوجود لگتا ہے کوئی سننے والا نہیں، مگر اللہ کی مدد اکثر ٹھیک اسی وقت آتی ہے جب ہم مایوس ہونے کے قریب ہوتے ہیں۔ ایک دن اسی اندھیرے میں علاؤ الدین کی نظر ایک چمکتی ہوئی انگوٹھی پر پڑی۔ اس نے وہ انگوٹھی اٹھا کر انگلی میں پہن لی، اور اچانک اس میں سے ایک جن نمودار ہوا جس نے کہا کہ تین خواہشیں مانگو، پوری کروں گا۔

علاؤ الدین نے سب سے پہلے یہی مانگا کہ اسے اس کنویں سے نکالا جائے۔ جن نے فوراً یہ خواہش پوری کر دی، اور ساتھ چراغ بھی اس کے ساتھ ہی باہر آ گیا۔ خوشی خوشی گھر کی طرف بھاگتے ہوئے راستے میں اس کی ٹکر یاسمین سے ہو گئی، جس کا نقاب اس ٹکراؤ میں اتر گیا۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہی رہ گئے، پھر شرمندگی سے معذرت کر کے اپنے اپنے راستے چلے گئے، مگر دونوں کے دل میں ایک انوکھا سا احساس ٹھہر گیا تھا۔

گھر پہنچ کر علاؤ الدین نے اپنی ماں کو سارا واقعہ سنایا اور چراغ دکھایا۔ ماں نے چراغ کو صاف کرنا چاہا تو اس میں سے ایک نیلے رنگ کا جن ظاہر ہوا، جس نے خدمت کی پیشکش کی۔ کھانے کی خواہش کی گئی تو پلک جھپکتے ہی دسترخوان لذیذ کھانوں سے سج گیا۔

یہاں ایک بات میرے دل کو لگی: نعمتیں اکثر ہمارے پاس کسی معمولی، بے قدر چیز کی صورت میں پڑی ہوتی ہیں، جب تک ہم انہیں صاف کر کے، محنت سے استعمال کرنا نہ سیکھیں، ان کی اصل برکت سامنے نہیں آتی۔

وقت گزرنے کے ساتھ علاؤ الدین نے ایک عالیشان محل تعمیر کروایا اور امیر ہو گیا۔ ادھر سلطان کے ایک گارڈ نے بادشاہ کو بتایا کہ شہزادی یاسمین کو بازار میں عام لوگوں کے درمیان دیکھا گیا ہے۔ سلطان نے غصے میں یاسمین کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔ یاسمین اسی اجنبی لڑکے کی یاد میں گم رہنے لگی جس سے بازار میں ٹکراؤ ہوا تھا۔

سلطان کو جب علاؤ الدین کے شاندار محل کا علم ہوا تو اسے بلوایا اور شرط رکھی کہ اگر وہ چالیس سپاہی، سونے کے صندوقوں کے ساتھ، اس کے حضور پیش کرے تو اپنی بیٹی کی شادی اس سے کر دے گا۔ جب شہزادی نے علاؤ الدین کو محل میں دیکھا تو دوڑتی ہوئی باپ کے پاس گئی اور کہا کہ وہ اسی لڑکے سے شادی کرے گی۔ اگلے دن شرط پوری ہوئی اور شادی کی رسم ادا کر دی گئی۔

کچھ عرصے بعد، جب علاؤ الدین گھر پر موجود نہیں تھا، وہی عجیب آدمی ایک پیادے کے بھیس میں محل کے پاس سے گزرا اور آواز لگاتا رہا کہ پرانی چیزیں دو، نئی لے لو۔ یاسمین کو اندازہ نہ تھا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے کبھی علاؤ الدین کو کنویں میں دھکیلا تھا۔ اس نے پرانا چراغ دے کر نیا لے لیا۔

آدمی نے فوراً چراغ رگڑا، جن کو حکم دیا کہ محل اور شہزادی سمیت اسے دور صحرا میں پہنچا دے۔ پلک جھپکتے ہی محل غائب ہو گیا۔ کچھ دیر بعد جب علاؤ الدین واپس آیا اور یہ منظر دیکھا تو پریشان ہو گیا۔ اس نے فوراً اپنی انگوٹھی والے جن کو بلایا، جس نے دو خواہشیں پوری کرنے کی پیشکش کی۔ علاؤ الدین نے کہا مجھے یاسمین تک پہنچا دو۔

چند ہی لمحوں میں وہ چپکے سے محل میں داخل ہوا، اور دیکھا کہ یاسمین اسی آدمی کی خدمت پر مجبور ہے۔ اپنی تیسری خواہش میں اس نے کہا کہ اس ظالم آدمی کو پرندہ بنا دیا جائے، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ آدمی پرندہ بن کر اڑ گیا۔ اس کے بعد علاؤ الدین اور یاسمین خوشی خوشی اپنی زندگی گزارنے لگے۔


ویڈیو ختم ہونے کے بعد میں کافی دیر تک سوچتا رہا۔ یہ کہانی صرف جادو اور شہزادوں کی نہیں، بلکہ اس بات کی گواہی ہے کہ انسان کی نیت اور محنت ہی اصل قسمت بناتی ہے۔ علاؤ الدین کی غربت اسے شارٹ کٹ کی طرف لے گئی تھی، مگر جب اس نے صبر کیا، محنت جاری رکھی، اور اللہ کی مدد پر بھروسہ کیا، تب جا کر اسے وہ برکت ملی جس کا وہ حقدار تھا۔ ہم میں سے بھی اکثر لوگ، خاص طور پر ہم جیسے محنت کش لوگ جو دن رات کام کر کے روزی کماتے ہیں، کبھی نہ کبھی ایسے موڑ پر پہنچتے ہیں جہاں آسان راستہ لبھاتا ہے۔ مگر یہ کہانی یاد دلاتی ہے کہ حقیقی برکت صبر اور محنت ہی سے آتی ہے۔

اللہ ہم سب کو صبر، حلال رزق اور اپنی محنت پر بھروسہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

سفر کے لئے پیسے نہیں،حوصلہ چاہئے

سفر کے لیے پیسہ نہیں، حوصلہ چاہیے

ایک ڈیلیوری رائیڈر کی نظر سے، دنیا گھومنے کے خواب اور اصل رکاوٹ کی کہانی

ایک دن بائیک پر آرڈر لے کر جاتے ہوئے، سگنل پر رکا تھا کہ موبائل پر ایک ویڈیو نظر آئی۔ ایک نوجوان اسٹیج پر کھڑا اپنی کہانی سنا رہا تھا کہ کیسے اس نے بغیر پیسوں کے پوری دنیا گھوم لی۔ میں نے سوچا، یہ کیسے ممکن ہے؟ میں تو دن بھر آرڈر پہنچاتا ہوں، اپنے ہی شہر کی گلیاں مکمل طور پر نہیں دیکھ پایا، وہ بندہ پوری دنیا کیسے گھوم آیا؟ لیکن جیسے جیسے سنتا گیا، مجھے احساس ہوا کہ اصل مسئلہ پیسہ نہیں، بلکہ ہمارا اپنا ذہن ہے۔

وہ سب سے بڑا بہانہ

ہم میں سے اکثر لوگ دنیا دیکھنے کا خواب رکھتے ہیں، مگر جب بھی یہ بات آتی ہے تو ایک ہی جملہ زبان پر آتا ہے: "میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔" میں خود بھی یہی سوچتا تھا۔ روزانہ کی مزدوری، گھر کا خرچ، اور آگے بڑھنے کی کوشش میں سفر کا خیال کہیں پیچھے رہ جاتا تھا۔ لیکن اس ویڈیو میں ایک کروشیا کے نوجوان، تومیسلاو پرکو کی کہانی نے میری سوچ بدل دی۔

ایک اسٹاک بروکر جو سڑک پر رہنے لگا

تومیسلاو پہلے ایک اسٹاک بروکر تھا، اچھی خاصی نوکری تھی۔ لیکن جب مالی بحران آیا، تو وہ راتوں رات کنگال ہو گیا۔ اکثر لوگ ایسے حالات میں ٹوٹ جاتے ہیں، مگر اس نے الٹا فیصلہ کیا۔ نوکری چھوڑی، اور سڑک کو ہی اپنا گھر بنا لیا۔ پانچ سال تک، تقریباً بغیر پیسوں کے، اس نے دنیا گھومی۔ بعد میں اس نے اپنی کہانی ایک کتاب میں لکھی جس کا نام ہے "1000 Days of Spring"، اور اب وہ لوگوں کو زندگی اور سفر کے بارے میں لیکچر دیتا ہے۔

یہ سن کر مجھے اپنی زندگی یاد آئی۔ ہم لوگ اکثر ایک ہی حالت میں پھنس کر رہ جاتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ حالات بدلنے کے لیے پیسہ ہی واحد راستہ ہے۔ حالانکہ اصل چیز نیت اور ہمت ہوتی ہے۔

سفر کے تین بڑے خرچے

تومیسلاو کہتا ہے کہ سفر کا ہر خرچہ اصل میں صرف تین چیزوں میں بٹا ہوتا ہے:

  1. آنے جانے کا کرایہ: ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا۔
  2. رہائش: رات کو کہاں سونا ہے۔
  3. باقی سب کچھ: کھانا، پینا اور روزمرہ کی چھوٹی موٹی چیزیں۔

اس کی بات میں بڑی دانائی تھی: اگر ان تینوں چیزوں کو کم سے کم کر لیا جائے، تو کبھی کبھار سفر کرنا اپنے ہی شہر میں رہنے سے بھی سستا پڑ سکتا ہے۔ یہ بات سن کر مجھے لگا جیسے کسی نے میرے ذہن میں بیٹھا ہوا ایک غلط حساب کتاب صحیح کر دیا ہو۔

جب لفٹ اور محنت ہی سواری بن گئی

تومیسلاو نے سفر کے لیے مہنگی ٹکٹیں خریدنے کے بجائے مختلف راستے نکالے۔ کبھی راستے میں کھڑا ہو کر لفٹ مانگی، جو مفت بھی تھی اور راستے میں نئے لوگوں سے ملاقات کا ذریعہ بھی۔ کبھی پیدل چل کر یا سائیکل پر سفر کیا۔ ایک بار تو اس نے آسٹریلیا سے افریقہ تک، بحرِ ہند عبور کرنے کے لیے، ایک کشتی پر رات کی نگرانی اور کھانا پکانے کا کام کیا، اور بدلے میں اسے کوئی پیسہ نہیں بلکہ سفر کا موقع ملا۔

یہ پڑھ کر مجھے اپنی ڈیلیوری کی نوکری کا خیال آیا۔ ہم روز محنت کرتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ یہی محنت ہمیں کہیں اور بھی لے جا سکتی ہے، اگر ہم تھوڑا سا حوصلہ کر کے نئے راستے تلاش کریں۔

اجنبیوں کے گھر، جہاں دل جڑ گئے

رہائش کے لیے اس نے مہنگے ہوٹلوں کی بجائے "کاؤچ سرفنگ" جیسی ویب سائٹس کا استعمال کیا، جہاں مقامی لوگ اجنبی مسافروں کو اپنے گھر میں مفت ٹھہراتے ہیں۔ اس نے آہستہ آہستہ لوگوں کا بھروسہ جیتا، اچھے تجربات کی بنیاد پر اپنی ساکھ بنائی، اور راستے میں ایسے لوگوں سے ملا جو شاید زندگی بھر یاد رہیں۔

یہاں مجھے ایک بات سمجھ آئی: انسان جہاں بھی جائے، اگر نیت صاف ہو اور دل میں لوگوں کے لیے عزت ہو، تو اجنبی بھی اپنے بن جاتے ہیں۔ یہی تو ہماری زندگی کا اصل سبق بھی ہے۔

اصل بات: بہادر نہیں، بس تھوڑا حوصلہ

تومیسلاو کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی: "سفر کرنے کے لیے آپ کو بہادر ہونے کی ضرورت نہیں، بس شروعات کرنے کے لیے تھوڑا سا حوصلہ چاہیے۔ سفر کے لیے امیر ہونا ضروری نہیں۔" یہ سن کر مجھے ایک شعر یاد آ گیا:

ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
یہ آسمان بھی ٹوٹ کے بکھرا نہیں کرتا

سفر دراصل جیب کا نہیں، سوچ کا معاملہ ہے۔ جو لوگ حالات کا رونا روتے رہتے ہیں، وہ کبھی قدم نہیں اٹھاتے، اور جو لوگ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ بڑی منزلوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

میں نے اس سے کیا سیکھا

میں ابھی بھی روز اپنی بائیک پر شہر کی گلیوں میں آرڈر پہنچاتا ہوں، مگر اس ویڈیو کے بعد میری نظر بدل گئی ہے۔ اب میں چھوٹے چھوٹے سفروں میں بھی برکت ڈھونڈتا ہوں، اپنے شہر کے نئے علاقوں کو نئی نظر سے دیکھتا ہوں، اور اپنے آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ بڑا خواب دیکھنے کے لیے بڑی جیب نہیں، بڑا دل چاہیے۔ اللہ نے ہر انسان کو اپنے حصے کا رزق اور اپنے حصے کا راستہ دیا ہے، بس ہمیں چلنے کی ہمت کرنی ہوتی ہے۔

آخری بات

تومیسلاو پرکو کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ رکاوٹ پیسہ نہیں، ہمارا اپنا فیصلہ ہے۔ اگر ہم تخلیقی سوچ رکھیں، تھوڑا حوصلہ کریں، اور مختلف راستے تلاش کریں، تو دنیا کا کوئی بھی کونا ہمارے لیے اجنبی نہیں رہتا۔ سب سے بڑی رکاوٹ کبھی بھی خالی جیب نہیں ہوتی، بلکہ شروعات نہ کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔

یاد رہے: رزق اور راستے دونوں اللہ کی طرف سے ہیں، بس ہمیں نیت اور ہمت کے ساتھ قدم اٹھانا ہے، باقی کام اللہ پر چھوڑ دیں۔