سفر کے لئے پیسے نہیں،حوصلہ چاہئے

سفر کے لیے پیسہ نہیں، حوصلہ چاہیے

ایک ڈیلیوری رائیڈر کی نظر سے، دنیا گھومنے کے خواب اور اصل رکاوٹ کی کہانی

ایک دن بائیک پر آرڈر لے کر جاتے ہوئے، سگنل پر رکا تھا کہ موبائل پر ایک ویڈیو نظر آئی۔ ایک نوجوان اسٹیج پر کھڑا اپنی کہانی سنا رہا تھا کہ کیسے اس نے بغیر پیسوں کے پوری دنیا گھوم لی۔ میں نے سوچا، یہ کیسے ممکن ہے؟ میں تو دن بھر آرڈر پہنچاتا ہوں، اپنے ہی شہر کی گلیاں مکمل طور پر نہیں دیکھ پایا، وہ بندہ پوری دنیا کیسے گھوم آیا؟ لیکن جیسے جیسے سنتا گیا، مجھے احساس ہوا کہ اصل مسئلہ پیسہ نہیں، بلکہ ہمارا اپنا ذہن ہے۔

وہ سب سے بڑا بہانہ

ہم میں سے اکثر لوگ دنیا دیکھنے کا خواب رکھتے ہیں، مگر جب بھی یہ بات آتی ہے تو ایک ہی جملہ زبان پر آتا ہے: "میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔" میں خود بھی یہی سوچتا تھا۔ روزانہ کی مزدوری، گھر کا خرچ، اور آگے بڑھنے کی کوشش میں سفر کا خیال کہیں پیچھے رہ جاتا تھا۔ لیکن اس ویڈیو میں ایک کروشیا کے نوجوان، تومیسلاو پرکو کی کہانی نے میری سوچ بدل دی۔

ایک اسٹاک بروکر جو سڑک پر رہنے لگا

تومیسلاو پہلے ایک اسٹاک بروکر تھا، اچھی خاصی نوکری تھی۔ لیکن جب مالی بحران آیا، تو وہ راتوں رات کنگال ہو گیا۔ اکثر لوگ ایسے حالات میں ٹوٹ جاتے ہیں، مگر اس نے الٹا فیصلہ کیا۔ نوکری چھوڑی، اور سڑک کو ہی اپنا گھر بنا لیا۔ پانچ سال تک، تقریباً بغیر پیسوں کے، اس نے دنیا گھومی۔ بعد میں اس نے اپنی کہانی ایک کتاب میں لکھی جس کا نام ہے "1000 Days of Spring"، اور اب وہ لوگوں کو زندگی اور سفر کے بارے میں لیکچر دیتا ہے۔

یہ سن کر مجھے اپنی زندگی یاد آئی۔ ہم لوگ اکثر ایک ہی حالت میں پھنس کر رہ جاتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ حالات بدلنے کے لیے پیسہ ہی واحد راستہ ہے۔ حالانکہ اصل چیز نیت اور ہمت ہوتی ہے۔

سفر کے تین بڑے خرچے

تومیسلاو کہتا ہے کہ سفر کا ہر خرچہ اصل میں صرف تین چیزوں میں بٹا ہوتا ہے:

  1. آنے جانے کا کرایہ: ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا۔
  2. رہائش: رات کو کہاں سونا ہے۔
  3. باقی سب کچھ: کھانا، پینا اور روزمرہ کی چھوٹی موٹی چیزیں۔

اس کی بات میں بڑی دانائی تھی: اگر ان تینوں چیزوں کو کم سے کم کر لیا جائے، تو کبھی کبھار سفر کرنا اپنے ہی شہر میں رہنے سے بھی سستا پڑ سکتا ہے۔ یہ بات سن کر مجھے لگا جیسے کسی نے میرے ذہن میں بیٹھا ہوا ایک غلط حساب کتاب صحیح کر دیا ہو۔

جب لفٹ اور محنت ہی سواری بن گئی

تومیسلاو نے سفر کے لیے مہنگی ٹکٹیں خریدنے کے بجائے مختلف راستے نکالے۔ کبھی راستے میں کھڑا ہو کر لفٹ مانگی، جو مفت بھی تھی اور راستے میں نئے لوگوں سے ملاقات کا ذریعہ بھی۔ کبھی پیدل چل کر یا سائیکل پر سفر کیا۔ ایک بار تو اس نے آسٹریلیا سے افریقہ تک، بحرِ ہند عبور کرنے کے لیے، ایک کشتی پر رات کی نگرانی اور کھانا پکانے کا کام کیا، اور بدلے میں اسے کوئی پیسہ نہیں بلکہ سفر کا موقع ملا۔

یہ پڑھ کر مجھے اپنی ڈیلیوری کی نوکری کا خیال آیا۔ ہم روز محنت کرتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ یہی محنت ہمیں کہیں اور بھی لے جا سکتی ہے، اگر ہم تھوڑا سا حوصلہ کر کے نئے راستے تلاش کریں۔

اجنبیوں کے گھر، جہاں دل جڑ گئے

رہائش کے لیے اس نے مہنگے ہوٹلوں کی بجائے "کاؤچ سرفنگ" جیسی ویب سائٹس کا استعمال کیا، جہاں مقامی لوگ اجنبی مسافروں کو اپنے گھر میں مفت ٹھہراتے ہیں۔ اس نے آہستہ آہستہ لوگوں کا بھروسہ جیتا، اچھے تجربات کی بنیاد پر اپنی ساکھ بنائی، اور راستے میں ایسے لوگوں سے ملا جو شاید زندگی بھر یاد رہیں۔

یہاں مجھے ایک بات سمجھ آئی: انسان جہاں بھی جائے، اگر نیت صاف ہو اور دل میں لوگوں کے لیے عزت ہو، تو اجنبی بھی اپنے بن جاتے ہیں۔ یہی تو ہماری زندگی کا اصل سبق بھی ہے۔

اصل بات: بہادر نہیں، بس تھوڑا حوصلہ

تومیسلاو کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی: "سفر کرنے کے لیے آپ کو بہادر ہونے کی ضرورت نہیں، بس شروعات کرنے کے لیے تھوڑا سا حوصلہ چاہیے۔ سفر کے لیے امیر ہونا ضروری نہیں۔" یہ سن کر مجھے ایک شعر یاد آ گیا:

ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
یہ آسمان بھی ٹوٹ کے بکھرا نہیں کرتا

سفر دراصل جیب کا نہیں، سوچ کا معاملہ ہے۔ جو لوگ حالات کا رونا روتے رہتے ہیں، وہ کبھی قدم نہیں اٹھاتے، اور جو لوگ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ بڑی منزلوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

میں نے اس سے کیا سیکھا

میں ابھی بھی روز اپنی بائیک پر شہر کی گلیوں میں آرڈر پہنچاتا ہوں، مگر اس ویڈیو کے بعد میری نظر بدل گئی ہے۔ اب میں چھوٹے چھوٹے سفروں میں بھی برکت ڈھونڈتا ہوں، اپنے شہر کے نئے علاقوں کو نئی نظر سے دیکھتا ہوں، اور اپنے آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ بڑا خواب دیکھنے کے لیے بڑی جیب نہیں، بڑا دل چاہیے۔ اللہ نے ہر انسان کو اپنے حصے کا رزق اور اپنے حصے کا راستہ دیا ہے، بس ہمیں چلنے کی ہمت کرنی ہوتی ہے۔

آخری بات

تومیسلاو پرکو کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ رکاوٹ پیسہ نہیں، ہمارا اپنا فیصلہ ہے۔ اگر ہم تخلیقی سوچ رکھیں، تھوڑا حوصلہ کریں، اور مختلف راستے تلاش کریں، تو دنیا کا کوئی بھی کونا ہمارے لیے اجنبی نہیں رہتا۔ سب سے بڑی رکاوٹ کبھی بھی خالی جیب نہیں ہوتی، بلکہ شروعات نہ کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔

یاد رہے: رزق اور راستے دونوں اللہ کی طرف سے ہیں، بس ہمیں نیت اور ہمت کے ساتھ قدم اٹھانا ہے، باقی کام اللہ پر چھوڑ دیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں