دنیا عارضی ہے — مگر مسکین کا مقام بلند ہے
ایک فوڈ ڈیلیوری رائیڈر کے دل کی گہرائیوں سے نکلی سوچ، جو خالی جیب کے باوجود روحانی دولت سے مالامال ہے
جب میں اپنی موٹر سائیکل پر نکلتا ہوں اور شہر کی گلیوں سے گزرتا ہوں تو آنکھیں بہت کچھ دیکھتی ہیں۔ رنگ برنگے ہوٹل، خوشبودار کھانے، بڑے بڑے مال، چمکتے اشتہار۔ دنیا واقعی بہت خوبصورت ہے۔ کھانے میں لذت ہے، سننے کے لیے میٹھے نغمے ہیں، سیر و تفریح میں راحت ہے۔ آنکھ جہاں جاتی ہے، کوئی نہ کوئی دلکش منظر مل جاتا ہے۔
مگر پھر ایک لمحہ آتا ہے جب دل رک جاتا ہے۔ اندر سے ایک آواز آتی ہے — یہ سب عارضی ہے۔ یہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے، ہمیشہ کا گھر نہیں۔ اور جیسے ہی یہ سوچ آتی ہے، پوری دنیا کی حقیقت سامنے آ جاتی ہے — کہ یہ چمک دمک، یہ لذتیں، یہ رنگین سراب — سب شیطان کے وسوسے ہیں جو انسان کو اصل منزل سے غافل کرتے ہیں۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ''کیا ہے دنیا کا میرے ساتھ معاملہ؟ میری اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے ایک مسافر سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھے، پھر چل دے اور اسے چھوڑ جائے۔''
— سنن ترمذی
کبھی کبھی جب میں کسی بڑے گھر کے سامنے کھانا پہنچانے جاتا ہوں — اونچی دیواریں، چوڑے دروازے، اندر سے خوشبو، باہر سے چمک — تو دل میں ایک لمحے کے لیے خیال آتا ہے: کاش میرے پاس بھی یہ سب ہوتا۔ مگر پھر اگلے ہی لمحے سوچتا ہوں — اس دولت کے ساتھ کہیں گناہ بھی تو نہیں آتا؟ کیا عیش و آرام کی زندگی انسان کو نیکی سے دور نہیں کر دیتی؟
میں نے غور کیا ہے کہ جو لوگ بہت زیادہ مال و دولت میں ڈوبے ہوتے ہیں، وہ اکثر اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتے ہیں۔ نماز قضا ہوتی ہے، ذکر چھوٹ جاتا ہے، دل سخت ہو جاتا ہے۔ اور جو لوگ محنت مزدوری کرتے ہیں، تھکے ہارے سجدے میں گرتے ہیں — ان کے آنسو کتنے سچے ہوتے ہیں، ان کی دعا کتنی خالص ہوتی ہے۔
میں سوچتا ہوں کہ الحمدللہ، میرے پاس کھانے کو روٹی ہے، پہننے کو کپڑا ہے، رہنے کو چھت ہے۔ بس یہی کافی ہے۔ ضرورت پوری ہونا ہی اصل نعمت ہے، خواہش پوری ہونا نہیں۔ اور پھر مجھے آپ ﷺ کی وہ روایت یاد آتی ہے جو سینے میں اطمینان کی لہر دوڑا دیتی ہے۔
جب حضور نبی کریم ﷺ اس دنیا سے رخصت ہونے لگے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا: ''اللہ سے پوچھ کر آؤ، میری امت کا کیا بنے گا؟'' اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''میں تیری امت کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔''
— روایات سیرت
یہ سنتے ہی دل کو سکون ملتا ہے۔ اللہ نے خود فرمایا کہ میں تیری امت کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ تو پھر میں کیوں گھبراؤں؟ جب میں رات کو تھکا ہارا گھر واپس آتا ہوں اور جیب میں تھوڑے سے پیسے ہوتے ہیں، تو ایک سکون ہوتا ہے — اللہ نے آج بھی رزق دیا، اللہ نے آج بھی رکھا۔
اور پھر آپ ﷺ کی وہ دعا یاد آتی ہے جو بار بار پڑھتا ہوں، بار بار سوچتا ہوں:
''اے اللہ! مجھے مسکین زندہ رکھ، مسکین ہی اس دنیا سے اٹھا، اور قیامت کے دن مسکینوں کے ساتھ میرا حشر کر۔''
— سنن ابن ماجہ، سنن ترمذی
کیا یہ دعا کم ہے؟ کیا یہ عظمت کم ہے؟ جس دعا کو خود نبی کریم ﷺ نے مانگا، وہ میری زندگی کا حصہ ہو جائے — تو میں غریب نہیں، بلکہ سنت کا پیروکار ہوں۔ مسکینی ذلت نہیں، یہ تو نبی ﷺ کا انتخاب تھا۔
میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ واقعی نیک ہوتے ہیں — وہ اکثر غریب یا سادہ زندگی والے ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک نور ہوتا ہے، ان کے چہرے پر ایک سکون ہوتا ہے۔ امیر بندے اکثر بے چین دکھتے ہیں — انہیں مزید چاہیے، اور مزید، اور مزید۔ مگر غریب کو جب روٹی مل جائے تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے۔ یہ مطمینیت خود ایک نعمت ہے جو خریدی نہیں جا سکتی۔
اور پھر وہ حدیث جو سینے میں ایک گرماہٹ بھر دیتی ہے: ''اے اللہ! آل محمد کو ضرورت کے مطابق عطا فرما۔'' اور ایک اور روایت میں آیا کہ ''جو بھی نیک، پرہیزگار اور متقی ہے، وہ میری آل اور اہل و عیال میں سے ہے۔''
یہ پڑھ کر میں سوچتا ہوں — اگر میں نیک رہوں، گناہ سے بچوں، اللہ سے ڈروں، تو شاید میں بھی اس خوش نصیب جماعت میں شامل ہو جاؤں جسے نبی ﷺ نے اپنا اہل کہا۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی شرف ہو سکتا ہے؟ کوئی محل، کوئی گاڑی، کوئی دولت اس مقام کو نہیں چھو سکتی۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ''اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کافر کو ایک گھونٹ پانی نہ پلاتا۔''
— سنن ترمذی
بس یہی سوچ کر میں خوش ہو جاتا ہوں۔ اللہ نے جن لوگوں کو خوب دنیا دی ہے، انہیں دے دی — مگر جنہیں کم دی ہے، ان کے لیے شاید آخرت میں کچھ اور رکھ چھوڑا ہے۔ میری یہ محنت، یہ پسینہ، یہ تھکان، یہ خالی جیب — سب اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔ اور ایک دن جب حساب ہوگا، اللہ کریم نے جو رکھا ہوگا، وہ کسی محل سے کم نہ ہوگا۔
تو اب جب بھی کسی امیر کا بڑا گھر دیکھتا ہوں، مسکرا دیتا ہوں — اور دل میں کہتا ہوں: ''اللہ تجھے بھی خوش رکھے، اور مجھے بھی — مگر مجھے وہ دے جو تو نے مجھے لائق سمجھا ہو۔''
دنیا خوبصورت ہے، مگر عارضی ہے۔ اصل گھر وہ ہے جو سامنے ہے — اور اس گھر کی چابی دنیا کی دولت سے نہیں، اللہ کی اطاعت سے ملتی ہے۔ اللہ ہم سب کو مسکین رہ کر امیر بننے کی توفیق دے — آخرت میں۔
آمین یا رب العالمین ﷺ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں