ماں کی نظر اور اندر کی خوبصورتی

خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہے

ایک ماں کی نظر، ایک بیٹے کا سفر

"تم خوبصورت ہو۔" یہ وہ جملہ ہے جو میری ماں نے نہ جانے کتنی بار، نہ جانے کتنے لوگوں سے کہا ہوگا۔ گلی کے نکڑ پر بیٹھی بوڑھی خالہ سے، ہمارے محلے کے اس چاچا سے جس کے چہرے پر چیچک کے داغ تھے، اس رشتے دار سے جسے لوگ پیٹھ پیچھے مذاق کا نشانہ بناتے تھے۔ میں چھوٹا تھا تو یہ سن کر حیران ہو جاتا۔ میں سوچتا، "دنیا میں ماں انہیں خوبصورت کیسے کہہ سکتی ہے؟" میں ایک منطقی اور حساب کتاب والا لڑکا تھا۔ میں چیزوں کو اسی طرح دیکھتا جیسے وہ ظاہری آنکھ کو نظر آتی تھیں، نہ کم نہ زیادہ۔ اور مجھے وہاں خوبصورتی نظر نہیں آتی تھی۔

پھر بھی میری والدہ یہ بات اس جوش، اس گرم جوشی کے ساتھ کہتیں جیسے وہ خود اسے محسوس کر رہی ہوں۔ ان کی آواز میں کوئی بناوٹ نہ ہوتی۔ وہ یہ کسی غرض سے نہیں کہتیں تھیں، کسی سے کچھ لینے کے لیے نہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ زیادہ تر وہی لوگ تعریف کرتے پھرتے ہیں جو دراصل کچھ لینے کی نیت رکھتے ہیں۔ لیکن میری ماں کا معاملہ الگ تھا۔ برسوں تک میں سوچتا رہا کہ آخر ماں کی نظر میں کیا خرابی ہے۔ کیا وہ یہ نہیں دیکھ پاتیں کہ جن لوگوں کو وہ خوبصورت کہتی ہیں، دنیا کے معیار کے مطابق وہ خوبصورت نہیں ہیں؟

میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس دنیا کے بنائے ہوئے پیمانوں میں گزارا ہے — گورا رنگ، تیکھے نقوش، فیشن میگزین کے سرورق، وہ چہرے جنہیں دنیا نے "خوبصورت" کا لقب دے رکھا ہے۔ میرا خیال تھا کہ خوبصورتی کوئی ایسی چیز ہے جو صرف چند خوش نصیبوں کو ملتی ہے، باقی سب اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ لیکن جب میری ماں بات کرتیں تو لوگوں کے چہرے یوں چمک اٹھتے جیسے کسی رسالے نے انہیں سال کے سب سے خوبصورت افراد کی فہرست میں شامل کر لیا ہو۔ آخرکار، برسوں بعد، مجھے سمجھ آیا کہ ماں کی نظر اور ان کے اس جملے میں کیا راز چھپا تھا: "خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہے۔"

نظر نظر کا فرق ہے ورنہ ہر شے میں جمال ہے دل ہو روشن جس کا، اسے ہر چہرہ نکھرا نکھرا لگے

میری ماں کی روح میں ایک ایسی نظر تھی جو انسان کے اندر کی خوبصورتی دیکھ سکتی تھی۔ ہم میں سے اکثر صرف باہر دیکھتے ہیں، اور جو دیکھتے ہیں اسے دنیا کے بنائے ہوئے معیاروں سے تولنے لگتے ہیں۔ میں بھی یہی کرتا تھا۔ اب جب میں دن بھر بائیک پر شہر کی گلیوں میں کھانا پہنچاتا پھرتا ہوں، مجھے ہر روز سینکڑوں چہرے دیکھنے کو ملتے ہیں — تھکا ہوا دربان جو رات کے بارہ بجے گیٹ کھولتا ہے، وہ بوڑھی عورت جو اپنے پوتے کے لیے آرڈر لیتی ہوئی مسکراتی ہے، وہ مزدور جو دن بھر کی مشقت کے بعد سڑک کنارے بیٹھا اپنے موبائل پر گھر والوں سے بات کر رہا ہوتا ہے۔ پہلے میں ان کے پاس سے یونہی گزر جاتا تھا۔ اب میں رکتا ہوں، دیکھتا ہوں، اور واقعی دیکھتا ہوں۔

آج آپ بھی جب اپنے گھر سے نکلیں تو پہلا شخص جو آپ کو نظر آئے، اسے غور سے دیکھیں اور تلاش کریں کہ وہ کتنا خوبصورت ہے۔ ہو سکتا ہے وہ گنجا ہو، موٹا ہو، چہرے پر جھریاں ہوں، یا کوئی اور چیز ہو جسے دنیا خوبصورتی کے دائرے سے باہر سمجھتی ہے۔ اسے قریب سے دیکھیں اور خوبصورتی تلاش کریں۔ یقین کریں، اگر آپ واقعی دیکھیں گے تو آپ کو ضرور نظر آئے گی۔ مجھے بھی پہلے اس پر یقین نہیں آیا تھا، جب تک میں نے خود آزما کر نہ دیکھا۔ اور جیسے ہی میں نے غور سے دیکھنا شروع کیا، مجھے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبصورتی نظر آنے لگی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کتنا ہی تھکا ہوا، رنگت بگڑی ہوئی یا زندگی کی سختیوں سے پہنا ہوا نظر آتا ہے — ہر درد کی لکیر میں بھی ایک الگ حسن پوشیدہ ہوتا ہے۔ بس اسے تلاش کرنے کی ضرورت ہے، وہ وہیں موجود ہے۔

میری ماں کہا کرتیں: "شہد کی مکھی کی طرح بنو، جو ہمیشہ خوبصورت پھولوں پر بیٹھتی ہے۔" یعنی نگاہ کو اچھائی، عمدگی اور خوبی کی طرف مائل رکھو، عیب اور خرابی کی طرف نہیں۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ یہ ایک زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔ اور اسلام نے بھی ہمیں یہی سکھایا ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔"

ایک اور مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن خوبصورت ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے خوبصورت اخلاق سے نوازا ہے۔ یہ سن کر مجھے سمجھ آیا کہ اصل خوبصورتی کا تعلق کردار سے ہے، رنگت یا نقش و نگار سے نہیں۔ ایک نرم دل، ایک سچا رویہ، ایک دوسرے کا خیال رکھنا — یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی چہرے کو حقیقی معنوں میں روشن کرتی ہیں۔

قرآن پاک بھی ہمیں بار بار ان خوبصورت نعمتوں کو یاد کرنے اور ان کی قدر کرنے کی تلقین کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"اور اپنے رب کی نعمت کا ذکر کرتے رہو۔" (سورۃ الضحیٰ، آیت 11)

اللہ سبحانہ و تعالیٰ خود اپنی خوبصورت تخلیقات کا ذکر فرماتا ہے اور ان کی تعریف بیان کرتا ہے۔ انہی میں سے اس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں، جن کے بارے میں فرمایا گیا: "اور ہم نے تیرا ذکر بلند کر دیا۔" (سورۃ الشرح، آیت 4) اور یہ بھی فرمایا: "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔" (سورۃ الاحزاب، آیت 56)

جب میں یہ سب سوچتا ہوں تو مجھے اپنی روز کی زندگی سمجھ آنے لگتی ہے۔ میں ایک عام آدمی ہوں، دن بھر بائیک چلا کر رزق کماتا ہوں، دھوپ میں، بارش میں، گرمی اور سردی میں۔ کبھی کبھار تھکن اتنی ہو جاتی ہے کہ لگتا ہے آنکھیں بند کر لوں۔ لیکن جب میں کسی گھر کے دروازے پر کھانا پہنچاتا ہوں اور کوئی چھوٹا بچہ خوشی سے چلاتا ہوا باہر آتا ہے، یا کوئی بزرگ مسکرا کر "بیٹا شکریہ" کہتا ہے، تو مجھے لگتا ہے کہ اس چھوٹے سے لمحے میں بھی ایک خوبصورتی چھپی ہوئی ہے۔ زندگی کی اصل برکت انہی چھوٹے لمحوں میں پوشیدہ ہے، بس نظر چاہیے جو انہیں پہچان سکے۔

میں نے سیکھا ہے کہ جو لوگ صرف خامیاں تلاش کرتے ہیں، وہ خامیاں ہی پاتے ہیں۔ اور جو خوبیاں تلاش کرتے ہیں، انہیں ہر جگہ خوبی نظر آتی ہے۔ یہ نظر کا فرق ہے، دنیا کا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں کچھ نہ کچھ حسن رکھا ہے — کسی کی آنکھوں میں محبت، کسی کے ہاتھوں میں محنت، کسی کے لہجے میں سچائی۔ بس ہمیں شہد کی مکھی بننا ہے، کانٹوں پر نہیں، پھولوں پر بیٹھنا ہے۔

پیارے قارئین، آج جب آپ اپنے گھر سے نکلیں تو ہر انسان کو غور سے دیکھیں۔ آپ کو ہر اس شخص میں بھی خوبصورتی نظر آنے لگے گی جسے آپ نہیں جانتے تھے۔ مجھ پر بھروسہ کریں اور خود آزما کر دیکھیں۔ اگر آپ خلوصِ دل سے دیکھیں گے تو ضرور دیکھیں گے۔ اور جب آپ دن بھر دنیا کی خوبصورتی دیکھ کر گھر لوٹیں، تو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو بھی دیکھیں۔ تم خوبصورت ہو۔ اور اس خوبصورتی کا شکریہ ادا کریں جو آپ نے نہ صرف دیکھی، بلکہ اپنے دل میں شامل بھی کی۔

اے اللہ! ہماری آنکھوں کو وہ نور عطا فرما جس سے ہم تیری مخلوق میں چھپی خوبصورتی دیکھ سکیں، اور ہمارے دلوں کو ایسا نرم فرما کہ ہم دوسروں کی خامیوں سے پہلے ان کی خوبیوں کو دیکھیں۔ آمین۔

علاؤالدین کی کہانی

علاؤ الدین کی کہانی – ایک ویڈیو جس نے دل موہ لیا

علاؤ الدین اور جادوئی چراغ – ایک ویڈیو جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا

ایک پرانی کہانی، لیکن سبق آج بھی وہی

کل رات کام سے واپسی پر، جب موٹر سائیکل کھڑی کر کے تھوڑی دیر آرام کر رہا تھا، میں نے موبائل پر ایک ویڈیو دیکھی۔ ویڈیو علاؤ الدین اور جادوئی چراغ کی مشہور کہانی پر بنی تھی۔ بچپن میں یہ کہانی کہیں سنی تھی، مگر آج جب دوبارہ دیکھی تو ایک الگ ہی نظر سے دیکھنے کو ملی۔ سوچا کیوں نہ یہ کہانی اپنے الفاظ میں آپ سب کے ساتھ بھی شیئر کروں، کیونکہ اس میں صرف جادو اور شہزادیوں کا قصہ نہیں، بلکہ محنت، صبر اور تقدیر کا ایک گہرا سبق بھی چھپا ہوا ہے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ مشرق کے کسی دور دراز علاقے میں ایک رات گہرا اندھیرا چھایا ہوا تھا، اور ریت کا طوفان چل رہا تھا۔ اسی رات کے آخری پہر میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام علاؤ الدین رکھا گیا۔ نہ اسے کوئی جانتا تھا، نہ کسی کو خبر تھی کہ یہ بچہ آگے چل کر کیسی زندگی گزارے گا۔ وہ اپنی والدہ کے سائے میں غریبی میں پلا بڑھا، اور اسی علاقے کی تنگ گلیوں میں اپنا بچپن گزارا۔

عجیب بات یہ ہے کہ اسی رات، اسی شہر میں، بادشاہ کے محل میں ایک خوبصورت شہزادی، یاسمین، بھی پیدا ہوئی۔ وہ اپنے ننھے سے پالتو پرندے کے ساتھ محل کی رونقوں میں پلی، مگر اس کا دل ہمیشہ کسی اور دنیا کو دیکھنے کے لیے تڑپتا تھا۔ وہ اکثر نقاب اوڑھ کر بازار نکل جاتی، تاکہ عام لوگوں کی طرح آزادی سے چل پھر سکے، اور کوئی اسے پہچان نہ سکے۔

ادھر علاؤ الدین اپنی ماں کا سہارا بننے کے لیے روزانہ بازار میں مزدوری کرتا اور جو کچھ کما پاتا، گھر لے آتا۔ ایک دن وہ بازار سے گزر رہا تھا کہ ایک عجیب و غریب شکل کے آدمی نے اسے آواز دی۔ علاؤ الدین نے سوچا شاید اسے نہیں بلایا جا رہا، مگر جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ آدمی واقعی اسی کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ قریب جانے پر اس آدمی نے سرگوشی میں کہا کہ اگر وہ اس کا ایک چھوٹا سا کام کر دے تو بدلے میں اسے سونے کا ایک صندوق ملے گا۔

یہاں مجھے رک کر سوچنا پڑا۔ کتنی بار ہماری زندگی میں بھی ایسے لوگ آتے ہیں جو ہمیں جلد امیر بننے کے، آسان راستے کے، بغیر محنت کے فائدے کے خواب دکھاتے ہیں۔ علاؤ الدین کے ذہن میں بھی یہی خیال آیا کہ اگر اس نے یہ کام کر دیا تو شاید وہ اور اس کی ماں بغیر محنت کیے سکون سے زندگی گزار سکیں گے۔ غربت انسان کو کبھی کبھار ایسی پیشکشوں کے آگے کمزور کر دیتی ہے، اور یہی وہ لمحہ تھا۔

اس آدمی نے علاؤ الدین کو رسی سے باندھ کر ایک گہرے کنویں میں اتار دیا۔ نیچے اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس نے جیب سے ماچس نکالی اور جلائی، تو اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں۔ چاروں طرف ہیرے، جواہرات اور سونا بکھرا پڑا تھا۔ اسی خزانے کے درمیان اسے ایک پرانا سا چراغ ملا، وہی چراغ جس کا اس آدمی نے ذکر کیا تھا۔

علاؤ الدین نے اوپر آواز دی کہ چراغ مل گیا ہے۔ آدمی نے جلدی سے رسی نیچے پھینکی، مگر جیسے ہی علاؤ الدین کنویں کے منہ کے قریب پہنچا، اس آدمی نے چراغ چھیننے کی کوشش کی اور اسے دھکا دے کر واپس گرا دیا۔ چراغ بھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر علاؤ الدین کے سر پر جا لگا۔ آدمی غصے میں بپھر گیا اور کوئی اور ترکیب سوچنے لگا۔

کئی دن علاؤ الدین اسی کنویں میں پھنسا رہا۔ مدد کے لیے پکارتا رہا، مگر کوئی سننے والا نہ تھا۔ یہ حصہ سنتے ہوئے مجھے اپنی زندگی کے وہ لمحات یاد آئے جب حالات بہت مشکل لگتے ہیں، جب دعا کے باوجود لگتا ہے کوئی سننے والا نہیں، مگر اللہ کی مدد اکثر ٹھیک اسی وقت آتی ہے جب ہم مایوس ہونے کے قریب ہوتے ہیں۔ ایک دن اسی اندھیرے میں علاؤ الدین کی نظر ایک چمکتی ہوئی انگوٹھی پر پڑی۔ اس نے وہ انگوٹھی اٹھا کر انگلی میں پہن لی، اور اچانک اس میں سے ایک جن نمودار ہوا جس نے کہا کہ تین خواہشیں مانگو، پوری کروں گا۔

علاؤ الدین نے سب سے پہلے یہی مانگا کہ اسے اس کنویں سے نکالا جائے۔ جن نے فوراً یہ خواہش پوری کر دی، اور ساتھ چراغ بھی اس کے ساتھ ہی باہر آ گیا۔ خوشی خوشی گھر کی طرف بھاگتے ہوئے راستے میں اس کی ٹکر یاسمین سے ہو گئی، جس کا نقاب اس ٹکراؤ میں اتر گیا۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہی رہ گئے، پھر شرمندگی سے معذرت کر کے اپنے اپنے راستے چلے گئے، مگر دونوں کے دل میں ایک انوکھا سا احساس ٹھہر گیا تھا۔

گھر پہنچ کر علاؤ الدین نے اپنی ماں کو سارا واقعہ سنایا اور چراغ دکھایا۔ ماں نے چراغ کو صاف کرنا چاہا تو اس میں سے ایک نیلے رنگ کا جن ظاہر ہوا، جس نے خدمت کی پیشکش کی۔ کھانے کی خواہش کی گئی تو پلک جھپکتے ہی دسترخوان لذیذ کھانوں سے سج گیا۔

یہاں ایک بات میرے دل کو لگی: نعمتیں اکثر ہمارے پاس کسی معمولی، بے قدر چیز کی صورت میں پڑی ہوتی ہیں، جب تک ہم انہیں صاف کر کے، محنت سے استعمال کرنا نہ سیکھیں، ان کی اصل برکت سامنے نہیں آتی۔

وقت گزرنے کے ساتھ علاؤ الدین نے ایک عالیشان محل تعمیر کروایا اور امیر ہو گیا۔ ادھر سلطان کے ایک گارڈ نے بادشاہ کو بتایا کہ شہزادی یاسمین کو بازار میں عام لوگوں کے درمیان دیکھا گیا ہے۔ سلطان نے غصے میں یاسمین کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔ یاسمین اسی اجنبی لڑکے کی یاد میں گم رہنے لگی جس سے بازار میں ٹکراؤ ہوا تھا۔

سلطان کو جب علاؤ الدین کے شاندار محل کا علم ہوا تو اسے بلوایا اور شرط رکھی کہ اگر وہ چالیس سپاہی، سونے کے صندوقوں کے ساتھ، اس کے حضور پیش کرے تو اپنی بیٹی کی شادی اس سے کر دے گا۔ جب شہزادی نے علاؤ الدین کو محل میں دیکھا تو دوڑتی ہوئی باپ کے پاس گئی اور کہا کہ وہ اسی لڑکے سے شادی کرے گی۔ اگلے دن شرط پوری ہوئی اور شادی کی رسم ادا کر دی گئی۔

کچھ عرصے بعد، جب علاؤ الدین گھر پر موجود نہیں تھا، وہی عجیب آدمی ایک پیادے کے بھیس میں محل کے پاس سے گزرا اور آواز لگاتا رہا کہ پرانی چیزیں دو، نئی لے لو۔ یاسمین کو اندازہ نہ تھا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے کبھی علاؤ الدین کو کنویں میں دھکیلا تھا۔ اس نے پرانا چراغ دے کر نیا لے لیا۔

آدمی نے فوراً چراغ رگڑا، جن کو حکم دیا کہ محل اور شہزادی سمیت اسے دور صحرا میں پہنچا دے۔ پلک جھپکتے ہی محل غائب ہو گیا۔ کچھ دیر بعد جب علاؤ الدین واپس آیا اور یہ منظر دیکھا تو پریشان ہو گیا۔ اس نے فوراً اپنی انگوٹھی والے جن کو بلایا، جس نے دو خواہشیں پوری کرنے کی پیشکش کی۔ علاؤ الدین نے کہا مجھے یاسمین تک پہنچا دو۔

چند ہی لمحوں میں وہ چپکے سے محل میں داخل ہوا، اور دیکھا کہ یاسمین اسی آدمی کی خدمت پر مجبور ہے۔ اپنی تیسری خواہش میں اس نے کہا کہ اس ظالم آدمی کو پرندہ بنا دیا جائے، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ آدمی پرندہ بن کر اڑ گیا۔ اس کے بعد علاؤ الدین اور یاسمین خوشی خوشی اپنی زندگی گزارنے لگے۔


ویڈیو ختم ہونے کے بعد میں کافی دیر تک سوچتا رہا۔ یہ کہانی صرف جادو اور شہزادوں کی نہیں، بلکہ اس بات کی گواہی ہے کہ انسان کی نیت اور محنت ہی اصل قسمت بناتی ہے۔ علاؤ الدین کی غربت اسے شارٹ کٹ کی طرف لے گئی تھی، مگر جب اس نے صبر کیا، محنت جاری رکھی، اور اللہ کی مدد پر بھروسہ کیا، تب جا کر اسے وہ برکت ملی جس کا وہ حقدار تھا۔ ہم میں سے بھی اکثر لوگ، خاص طور پر ہم جیسے محنت کش لوگ جو دن رات کام کر کے روزی کماتے ہیں، کبھی نہ کبھی ایسے موڑ پر پہنچتے ہیں جہاں آسان راستہ لبھاتا ہے۔ مگر یہ کہانی یاد دلاتی ہے کہ حقیقی برکت صبر اور محنت ہی سے آتی ہے۔

اللہ ہم سب کو صبر، حلال رزق اور اپنی محنت پر بھروسہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

سفر کے لئے پیسے نہیں،حوصلہ چاہئے

سفر کے لیے پیسہ نہیں، حوصلہ چاہیے

ایک ڈیلیوری رائیڈر کی نظر سے، دنیا گھومنے کے خواب اور اصل رکاوٹ کی کہانی

ایک دن بائیک پر آرڈر لے کر جاتے ہوئے، سگنل پر رکا تھا کہ موبائل پر ایک ویڈیو نظر آئی۔ ایک نوجوان اسٹیج پر کھڑا اپنی کہانی سنا رہا تھا کہ کیسے اس نے بغیر پیسوں کے پوری دنیا گھوم لی۔ میں نے سوچا، یہ کیسے ممکن ہے؟ میں تو دن بھر آرڈر پہنچاتا ہوں، اپنے ہی شہر کی گلیاں مکمل طور پر نہیں دیکھ پایا، وہ بندہ پوری دنیا کیسے گھوم آیا؟ لیکن جیسے جیسے سنتا گیا، مجھے احساس ہوا کہ اصل مسئلہ پیسہ نہیں، بلکہ ہمارا اپنا ذہن ہے۔

وہ سب سے بڑا بہانہ

ہم میں سے اکثر لوگ دنیا دیکھنے کا خواب رکھتے ہیں، مگر جب بھی یہ بات آتی ہے تو ایک ہی جملہ زبان پر آتا ہے: "میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔" میں خود بھی یہی سوچتا تھا۔ روزانہ کی مزدوری، گھر کا خرچ، اور آگے بڑھنے کی کوشش میں سفر کا خیال کہیں پیچھے رہ جاتا تھا۔ لیکن اس ویڈیو میں ایک کروشیا کے نوجوان، تومیسلاو پرکو کی کہانی نے میری سوچ بدل دی۔

ایک اسٹاک بروکر جو سڑک پر رہنے لگا

تومیسلاو پہلے ایک اسٹاک بروکر تھا، اچھی خاصی نوکری تھی۔ لیکن جب مالی بحران آیا، تو وہ راتوں رات کنگال ہو گیا۔ اکثر لوگ ایسے حالات میں ٹوٹ جاتے ہیں، مگر اس نے الٹا فیصلہ کیا۔ نوکری چھوڑی، اور سڑک کو ہی اپنا گھر بنا لیا۔ پانچ سال تک، تقریباً بغیر پیسوں کے، اس نے دنیا گھومی۔ بعد میں اس نے اپنی کہانی ایک کتاب میں لکھی جس کا نام ہے "1000 Days of Spring"، اور اب وہ لوگوں کو زندگی اور سفر کے بارے میں لیکچر دیتا ہے۔

یہ سن کر مجھے اپنی زندگی یاد آئی۔ ہم لوگ اکثر ایک ہی حالت میں پھنس کر رہ جاتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ حالات بدلنے کے لیے پیسہ ہی واحد راستہ ہے۔ حالانکہ اصل چیز نیت اور ہمت ہوتی ہے۔

سفر کے تین بڑے خرچے

تومیسلاو کہتا ہے کہ سفر کا ہر خرچہ اصل میں صرف تین چیزوں میں بٹا ہوتا ہے:

  1. آنے جانے کا کرایہ: ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا۔
  2. رہائش: رات کو کہاں سونا ہے۔
  3. باقی سب کچھ: کھانا، پینا اور روزمرہ کی چھوٹی موٹی چیزیں۔

اس کی بات میں بڑی دانائی تھی: اگر ان تینوں چیزوں کو کم سے کم کر لیا جائے، تو کبھی کبھار سفر کرنا اپنے ہی شہر میں رہنے سے بھی سستا پڑ سکتا ہے۔ یہ بات سن کر مجھے لگا جیسے کسی نے میرے ذہن میں بیٹھا ہوا ایک غلط حساب کتاب صحیح کر دیا ہو۔

جب لفٹ اور محنت ہی سواری بن گئی

تومیسلاو نے سفر کے لیے مہنگی ٹکٹیں خریدنے کے بجائے مختلف راستے نکالے۔ کبھی راستے میں کھڑا ہو کر لفٹ مانگی، جو مفت بھی تھی اور راستے میں نئے لوگوں سے ملاقات کا ذریعہ بھی۔ کبھی پیدل چل کر یا سائیکل پر سفر کیا۔ ایک بار تو اس نے آسٹریلیا سے افریقہ تک، بحرِ ہند عبور کرنے کے لیے، ایک کشتی پر رات کی نگرانی اور کھانا پکانے کا کام کیا، اور بدلے میں اسے کوئی پیسہ نہیں بلکہ سفر کا موقع ملا۔

یہ پڑھ کر مجھے اپنی ڈیلیوری کی نوکری کا خیال آیا۔ ہم روز محنت کرتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ یہی محنت ہمیں کہیں اور بھی لے جا سکتی ہے، اگر ہم تھوڑا سا حوصلہ کر کے نئے راستے تلاش کریں۔

اجنبیوں کے گھر، جہاں دل جڑ گئے

رہائش کے لیے اس نے مہنگے ہوٹلوں کی بجائے "کاؤچ سرفنگ" جیسی ویب سائٹس کا استعمال کیا، جہاں مقامی لوگ اجنبی مسافروں کو اپنے گھر میں مفت ٹھہراتے ہیں۔ اس نے آہستہ آہستہ لوگوں کا بھروسہ جیتا، اچھے تجربات کی بنیاد پر اپنی ساکھ بنائی، اور راستے میں ایسے لوگوں سے ملا جو شاید زندگی بھر یاد رہیں۔

یہاں مجھے ایک بات سمجھ آئی: انسان جہاں بھی جائے، اگر نیت صاف ہو اور دل میں لوگوں کے لیے عزت ہو، تو اجنبی بھی اپنے بن جاتے ہیں۔ یہی تو ہماری زندگی کا اصل سبق بھی ہے۔

اصل بات: بہادر نہیں، بس تھوڑا حوصلہ

تومیسلاو کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی: "سفر کرنے کے لیے آپ کو بہادر ہونے کی ضرورت نہیں، بس شروعات کرنے کے لیے تھوڑا سا حوصلہ چاہیے۔ سفر کے لیے امیر ہونا ضروری نہیں۔" یہ سن کر مجھے ایک شعر یاد آ گیا:

ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
یہ آسمان بھی ٹوٹ کے بکھرا نہیں کرتا

سفر دراصل جیب کا نہیں، سوچ کا معاملہ ہے۔ جو لوگ حالات کا رونا روتے رہتے ہیں، وہ کبھی قدم نہیں اٹھاتے، اور جو لوگ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ بڑی منزلوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

میں نے اس سے کیا سیکھا

میں ابھی بھی روز اپنی بائیک پر شہر کی گلیوں میں آرڈر پہنچاتا ہوں، مگر اس ویڈیو کے بعد میری نظر بدل گئی ہے۔ اب میں چھوٹے چھوٹے سفروں میں بھی برکت ڈھونڈتا ہوں، اپنے شہر کے نئے علاقوں کو نئی نظر سے دیکھتا ہوں، اور اپنے آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ بڑا خواب دیکھنے کے لیے بڑی جیب نہیں، بڑا دل چاہیے۔ اللہ نے ہر انسان کو اپنے حصے کا رزق اور اپنے حصے کا راستہ دیا ہے، بس ہمیں چلنے کی ہمت کرنی ہوتی ہے۔

آخری بات

تومیسلاو پرکو کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ رکاوٹ پیسہ نہیں، ہمارا اپنا فیصلہ ہے۔ اگر ہم تخلیقی سوچ رکھیں، تھوڑا حوصلہ کریں، اور مختلف راستے تلاش کریں، تو دنیا کا کوئی بھی کونا ہمارے لیے اجنبی نہیں رہتا۔ سب سے بڑی رکاوٹ کبھی بھی خالی جیب نہیں ہوتی، بلکہ شروعات نہ کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔

یاد رہے: رزق اور راستے دونوں اللہ کی طرف سے ہیں، بس ہمیں نیت اور ہمت کے ساتھ قدم اٹھانا ہے، باقی کام اللہ پر چھوڑ دیں۔

Shopify بغیر اسٹاک کے اپنا آن لائن سٹور

Shopify ڈراپ شپنگ: بغیر اسٹاک کے اپنا آن لائن اسٹور کیسے بنائیں

دنیا بھر میں مقبول پلیٹ فارم جس سے لاکھوں لوگ اپنا آن لائن بزنس چلا رہے ہیں

پچھلے مضمون میں، میں نے آپ کو پاکستان کی مقامی ایپ HHC ڈراپ شپنگ کے بارے میں بتایا تھا۔ آج میں آپ کو اس سے ملتے جلتے، مگر عالمی سطح پر سب سے بڑے اور مشہور پلیٹ فارم Shopify کے بارے میں بتاؤں گا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا اپنا برانڈ ہو، اپنا ویب سائٹ اسٹور ہو، اور دنیا بھر کے کسٹمرز تک رسائی ہو، تو یہ مضمون آپ کے لیے ہے۔

Shopify ڈراپ شپنگ ہے کیا؟

Shopify دراصل ایک ای کامرس پلیٹ فارم ہے، یعنی ایسا سسٹم جس کی مدد سے کوئی بھی شخص اپنا آن لائن اسٹور بنا سکتا ہے۔ جب اسے ڈراپ شپنگ کے ساتھ ملایا جاتا ہے، تو آپ اپنے Shopify اسٹور پر ایسی پروڈکٹس بیچتے ہیں جو آپ کے پاس اسٹاک میں موجود نہیں ہوتیں۔ جیسے ہی کوئی کسٹمر آرڈر کرتا ہے، وہ آرڈر خودکار طریقے سے سپلائر کو بھیج دیا جاتا ہے، اور سپلائر خود پروڈکٹ پیک کر کے سیدھا کسٹمر کے گھر بھیج دیتا ہے۔ آپ کا کام صرف اسٹور بنانا، پروڈکٹس چننا اور مارکیٹنگ کرنا ہے۔

یہ ماڈل خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جن کے پاس شروعات میں بھاری سرمایہ نہیں ہوتا، مگر وہ اپنی محنت اور مارکیٹنگ کی صلاحیت سے بزنس کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔

یہ کام کیسے کرتا ہے؟

  1. اسٹور بنانا: آپ Shopify پر اکاؤنٹ بنا کر اپنا آن لائن اسٹور تیار کرتے ہیں، جس میں تھیم، لوگو اور برانڈنگ شامل ہے۔
  2. سپلائر ایپ لگانا: آپ CJdropshipping، DSers یا Spocket جیسی ایپس کے ذریعے سپلائرز سے جڑتے ہیں اور ان کی پروڈکٹس اپنے اسٹور میں شامل کرتے ہیں۔
  3. پروڈکٹ لسٹنگ: آپ ہر پروڈکٹ کی اپنی قیمت مقرر کرتے ہیں، جو سپلائر کی قیمت سے زیادہ ہوتی ہے، اور یہی فرق آپ کا منافع بنتا ہے۔
  4. آرڈر آنے پر: جیسے ہی کسٹمر خریداری کرتا ہے، آرڈر خودکار طریقے سے سپلائر کو فارورڈ ہو جاتا ہے۔
  5. ڈیلیوری اور ٹریکنگ: سپلائر پروڈکٹ کسٹمر کو بھیجتا ہے اور ٹریکنگ نمبر خودکار طریقے سے آپ کے اسٹور اور کسٹمر کو مل جاتا ہے۔

Shopify کیوں منتخب کریں؟

  • ہزاروں تیار شدہ تھیمز اور ڈیزائنز، جن سے آپ کا اسٹور پیشہ ورانہ نظر آتا ہے۔
  • بہت بڑی ایپ مارکیٹ، جس میں سپلائر، مارکیٹنگ اور اینالیٹکس کی ہر ضرورت کے لیے ایپس موجود ہیں۔
  • فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک شاپ کے ساتھ آسان انضمام، جس سے آپ ایک ہی جگہ سے کئی پلیٹ فارمز پر بیچ سکتے ہیں۔
  • تیز اور محفوظ چیک آؤٹ سسٹم، جو کسٹمر کا بھروسہ بڑھاتا ہے۔
  • چھوٹے اسٹور سے لے کر بڑے برانڈ تک، ہر سائز کے بزنس کے لیے موزوں۔

2026 میں Shopify ڈراپ شپنگ کی حقیقت

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ Shopify ڈراپ شپنگ کوئی "راتوں رات امیر بننے" کا نسخہ نہیں۔ آج کے دور میں مقابلہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے، اور صرف سستی پروڈکٹس لگا کر اشتہار چلانا کافی نہیں رہا۔ جو اسٹور کامیاب ہو رہے ہیں، وہ ایک مخصوص نچ (خاص شعبے) پر توجہ دیتے ہیں، اپنے اسٹور کو تیز اور قابلِ اعتماد بناتے ہیں، اور صرف اشتہارات کی بجائے سرچ انجن آپٹیمائزیشن اور معیاری مواد کے ذریعے بھی ٹریفک لاتے ہیں۔

آمدنی کا انحصار آپ کی مستقل مزاجی، مارکیٹنگ کی حکمتِ عملی اور کسٹمر کے تجربے پر ہوتا ہے۔ کچھ لوگ شروع کے مہینوں میں بہت کم کماتے ہیں، جبکہ کچھ محنت اور صبر سے سالوں بعد ایک مستحکم برانڈ کھڑا کر لیتے ہیں۔

پاکستانی صارفین کے لیے ضروری باتیں

پاکستان سے Shopify استعمال کرنے والوں کو ادائیگیوں کے حل کے لیے متبادل طریقے تلاش کرنے پڑتے ہیں، کیونکہ مقامی بینکنگ کے مسائل عالمی پیمنٹ گیٹ ویز کے ساتھ سیدھا جڑنا مشکل بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح، بین الاقوامی سپلائرز کے ساتھ کام کرتے وقت کسٹمز ڈیوٹی اور ترسیل کے اوقات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ ان تمام معاملات میں شروع سے پہلے مکمل تحقیق اور کسی تجربہ کار شخص سے مشورہ کرنا بہتر رہتا ہے۔

آخری بات

Shopify ڈراپ شپنگ ایک حقیقی اور قانونی بزنس ماڈل ہے، مگر یہ جادوئی نسخہ نہیں۔ اس میں کامیابی کے لیے صحیح نچ کا انتخاب، معیاری اسٹور، قابلِ اعتماد سپلائرز اور مستقل مارکیٹنگ درکار ہوتی ہے۔ اگر آپ محنت، صبر اور سیکھنے کے جذبے کے ساتھ اس سفر کا آغاز کریں، تو یہ آپ کے لیے ایک مستحکم آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

یاد رہے: رزق کا اصل وعدہ اللہ کا ہے، کوئی بھی ذریعہ صرف ایک وسیلہ ہے۔ محنت کریں، دعا کریں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔

Drop shipping HHCمکمل گائیڈ اردو میں

HHC ڈراپ شپنگ ایپ: پاکستان میں آن لائن کمانے کا نیا ذریعہ

ایک ایسی ایپ جو بغیر بھاری انویسٹمنٹ کے آپ کو اپنا آن لائن بزنس شروع کرنے کا موقع دیتی ہے

جب سے میں ڈیلیوری رائیڈر کی جاب کر رہا ہوں، مجھے روز مختلف آن لائن سیلرز کے پارسل دیتے وقت یہ خیال آتا تھا کہ یہ لوگ یہ سامان بیچتے کہاں سے ہیں، اور ان کا اپنا اسٹاک کیوں نہیں ہوتا۔ جب میں نے تحقیق کی تو مجھے پتا چلا کہ یہ "ڈراپ شپنگ" کا طریقہ ہے، اور پاکستان میں اس کے لیے سب سے مشہور نام HHC ڈراپ شپنگ ہے۔ آج اس مضمون میں، میں آپ کو وہی معلومات دوں گا جو میں نے خود ڈھونڈ کر سیکھی ہیں۔

HHC ڈراپ شپنگ ہے کیا؟

HHC ڈراپ شپنگ ایک ایسی پاکستانی ایپ اور ویب سائٹ ہے جو ڈراپ شپرز کو سپلائرز سے جوڑتی ہے۔ سیدھے لفظوں میں سمجھیں تو یہ ایک درمیانی پلیٹ فارم ہے جہاں آپ خود کسی چیز کی مینوفیکچرنگ یا اسٹاک رکھے بغیر، دوسروں کے پروڈکٹس اپنے آن لائن اسٹور یا سوشل میڈیا پیج پر بیچ سکتے ہیں۔ جب کوئی کسٹمر آرڈر کرتا ہے، تو HHC خود اس پروڈکٹ کو پیک کر کے سیدھا کسٹمر کے گھر تک پہنچاتا ہے، اور درمیان میں جو منافع بنتا ہے وہ آپ کی جیب میں آتا ہے۔

یہ کمپنی خود کو پاکستان کا پہلا اور سب سے بڑا ڈراپ شپنگ پلیٹ فارم کہتی ہے، اور اس کا کام سن 2020 سے جاری ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوان بغیر کسی بڑے سرمائے کے اپنا آن لائن بزنس شروع کر سکیں۔

یہ کام کیسے کرتا ہے؟

HHC ایپ کا طریقہ کار بہت آسان رکھا گیا ہے، تاکہ کوئی بھی نیا بندہ بھی اسے سمجھ سکے:

  1. رجسٹریشن: سب سے پہلے آپ ایپ یا ویب سائٹ پر اپنا اکاؤنٹ بنائیں اور اپنی بزنس پروفائل سیٹ اپ کریں۔
  2. پروڈکٹ چننا: ویریفائیڈ سپلائرز کی لسٹ میں سے وہ پروڈکٹس چنیں جو آپ کو لگتا ہے بکیں گے۔
  3. لسٹنگ: چنے ہوئے پروڈکٹس کو اپنی آن لائن دکان، فیس بک پیج یا انسٹاگرام پر اپنی مرضی کی قیمت پر لسٹ کریں۔
  4. آرڈر آنے پر: جب کسٹمر آرڈر کرے، تو HHC خود اس پروڈکٹ کو پیک کر کے کوریئر کے حوالے کرتا ہے۔
  5. ٹریکنگ: ریئل ٹائم ٹریکنگ آئی ڈی سے آپ ہر شپمنٹ کا اسٹیٹس دیکھ سکتے ہیں۔
  6. منافع: ڈیلیوری کے بعد آپ کا منافع پالیسی کے مطابق آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جاتا ہے۔

ایپ کی خاص خوبیاں

  • ریئل ٹائم کوریئر ٹریکنگ آئی ڈی فوراً مل جاتی ہے۔
  • ہر شپمنٹ پر اپنی بزنس کی برانڈنگ لگانے کا آپشن۔
  • پروڈکٹس اور سپلائرز کی ریٹنگز دیکھ کر شفافیت کا فائدہ۔
  • جینوئن کلیمز پر فری ایکسچینج یا ریفنڈ کی سہولت۔
  • پرفارمنس رپورٹس اور اینالیٹکس جن سے آپ اپنی سیلز سمجھ سکتے ہیں۔
  • پوائنٹ بیسڈ لیول سسٹم، جس میں زیادہ پوائنٹس بنانے پر کم فل فلمنٹ چارجز، ڈیڈیکیٹڈ واٹس ایپ سپورٹ اور AI کے ذریعے "ونِنگ پروڈکٹس" کی تجاویز ملتی ہیں۔

فائدے

سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس بزنس میں نہ گودام چاہیے، نہ بھاری سرمایہ، اور نہ ہی پیکنگ یا شپنگ کی فکر۔ آپ صرف مارکیٹنگ اور سیلز پر توجہ دے سکتے ہیں، باقی کا کام پلیٹ فارم خود سنبھال لیتا ہے۔ یہ طریقہ ان لوگوں کے لیے خاص طور پر موزوں ہے جو گھر بیٹھے، کم وقت میں، اپنا چھوٹا آن لائن بزنس شروع کرنا چاہتے ہیں۔

کچھ احتیاط کی باتیں

ہر پلیٹ فارم کی طرح HHC کے ساتھ بھی کچھ صارفین نے شکایات کی ہیں، جیسے ایپ اپڈیٹ کے بعد کچھ آرڈر ٹریکنگ فیچرز کا غائب ہو جانا، یا کبھی کبھی ڈیلیوری میں دیر کی وجہ سے کسٹمر آرڈر واپس کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگوں کو فارم جمع کراتے وقت مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ایپ کے تازہ ریویوز خود پڑھیں اور اپنی تحقیق مکمل کریں۔ جیسا کہ ہر آن لائن کمائی کے ذریعے میں ہوتا ہے، صبر اور محنت ہی اصل کنجی ہے، فوراً امیر ہونے کا کوئی وعدہ نہیں ہوتا۔

آخری بات

HHC ڈراپ شپنگ جیسی ایپس نے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے آن لائن بزنس کا دروازہ کھول دیا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو بھاری سرمائے کے بغیر اپنا کام شروع کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یاد رہے، کسی بھی پلیٹ فارم پر بھروسہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں، چھوٹے پیمانے سے شروع کریں، اور اللہ پر توکل رکھتے ہوئے محنت جاری رکھیں۔ کامیابی راتوں رات نہیں آتی، بلکہ مسلسل کوشش اور صبر سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

یاد رہے: رزق کا اصل وعدہ اللہ کا ہے، کوئی بھی ذریعہ صرف ایک وسیلہ ہے۔ محنت کریں، دعا کریں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔

حسین زندہ باد یزید مردہ باد

امام حسینؓ سے محبت — ایک سچی وابستگی کی کہانی

جو حسینؓ سے محبت کرے، وہ نبی ﷺ سے محبت کرتا ہے

میں جب بھی امام حسین رضی اللہ عنہ کا نام سنتا ہوں، دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ نہ یہ غم صرف ماتم کا ہے، نہ یہ محبت صرف رسمی ہے۔ یہ ایک ایسی وابستگی ہے جو دل کی گہرائیوں سے جنم لیتی ہے، اور جب میں ان کی قربانی کے بارے میں سوچتا ہوں تو آنکھیں خود بخود بھیگ جاتی ہیں۔ یہ تحریر میں نے اپنے دل کی اسی کیفیت کو الفاظ دینے کے لیے لکھی ہے۔

محبت کی بنیاد کیا ہے؟

میں امام حسینؓ سے محبت کرتا ہوں، اور اس محبت کی بنیاد میرا اپنا کوئی خیال نہیں بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ آپ ﷺ نے حسینؓ کو اپنا، اور حسینؓ سے محبت کرنے والے کو اپنا محبوب قرار دیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ جب نبی ﷺ خود اپنے نواسے سے محبت کا اظہار فرماتے ہیں، تو امت کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ اہل بیت سے محبت دین کا حصہ ہے، نہ کہ کوئی اضافی یا ثانوی چیز۔

جو حسینؓ سے محبت کرتا ہے، وہ درحقیقت نبی ﷺ سے محبت کرتا ہے، کیونکہ حسینؓ نبی ﷺ کے جگر کا ٹکڑا تھے۔ یہ محبت ایمان کی علامت ہے، رسم کی نہیں۔

کربلا — قربانی کا وہ باب جو رہتی دنیا تک یاد رہے گا

کربلا کا واقعہ صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، یہ حق اور باطل کے فرق کو سمجھانے کا ایک معیار ہے۔ امام حسینؓ نے اس وقت سچائی پر ڈٹے رہنے کا انتخاب کیا جب باطل اپنی پوری طاقت کے ساتھ سامنے کھڑا تھا۔ انہوں نے اپنی جان، اپنے اہل و عیال، اور اپنے ساتھیوں کی قربانی دی، مگر باطل کے سامنے سر نہ جھکایا۔ یہی وہ سبق ہے جو مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے — کہ سچائی کی قیمت کبھی کبھی سب کچھ ہوتی ہے، اور حسینؓ نے وہ قیمت ادا کر کے دکھائی۔

جب میں یہ سوچتا ہوں کہ ایک طرف چھوٹے بچے پانی کے لیے تڑپ رہے تھے، اور دوسری طرف ان کے بزرگ صبر اور استقامت کی ایک ایسی مثال قائم کر رہے تھے جو قیامت تک یاد رہے گی، تو دل بے اختیار رو دیتا ہے۔ یہ آنسو میرے ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ اس محبت کا اظہار ہیں جو میرے دل میں اہل بیت کے لیے موجود ہے۔

محبت اور ماتم میں فرق

یہاں میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں جو میرے لیے بہت اہم ہے۔ میں امام حسینؓ سے محبت کرتا ہوں، ان کی قربانی پر آنسو بہاتا ہوں، مگر میں ماتم نہیں کرتا۔ اس کی وجہ میری اپنی پسند نہیں، بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "وہ ہم میں سے نہیں جو گریبان پھاڑے، منہ پر مارے، اور زمانہ جاہلیت کی طرح آہ و بکا کرے۔"

یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ غم کا اظہار اسلام میں جائز ہے، مگر اس کی ایک حد ہے۔ صبر، دعا، آنسو، اور دل کی گہرائی سے محبت — یہ سب درست راستے ہیں۔ مگر اپنے جسم کو نقصان پہنچانا، چیخ و پکار کرنا، یا جاہلیت کے انداز میں ماتم کرنا، یہ وہ راستہ نہیں جو نبی ﷺ نے سکھایا۔ میرے نزدیک حسینؓ سے سچی محبت یہ ہے کہ ہم ان کی سیرت پر عمل کریں، ان کے صبر سے سبق لیں، اور ان کی قربانی کو اپنی زندگی میں حق پر ڈٹے رہنے کی تحریک بنائیں۔

دل کا غم اور آنکھ کا آنسو

میں یہ مانتا ہوں کہ جب کوئی شخص امام حسینؓ کی شہادت کا واقعہ پڑھتا یا سنتا ہے، اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ جاتے ہیں، تو یہ ایمان کی نشانی ہے، نہ کہ کوئی خامی۔ آنسو دل کی نرمی کو ظاہر کرتے ہیں، اور دل کی نرمی نبی ﷺ کو پسند تھی۔ مگر اس غم کو ہمیں عبادت اور صبر کے دائرے میں رکھنا چاہیے، نہ کہ اسے ایسی رسومات کا حصہ بنا دیں جن سے نبی ﷺ نے خود منع فرمایا۔

میرے خیال میں سب سے بڑی محبت یہ ہے کہ ہم حسینؓ کی طرح سچائی پر قائم رہیں، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔ ان کی قربانی کو صرف یاد منانے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنے کردار میں شامل کریں — حق گوئی، استقامت، اور اللہ پر کامل بھروسہ۔

اختتامی بات

امام حسین رضی اللہ عنہ کی محبت میرے دل میں اس لیے ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے خاندان کا حصہ تھے، اور ان سے محبت دین کا تقاضا ہے۔ میں ان کی قربانی پر روتا ہوں، ان کے صبر سے سیکھتا ہوں، اور ان کے راستے کو حق کا راستہ سمجھتا ہوں۔ مگر اس محبت کے اظہار میں میں اسی حد کو اپنانے کی کوشش کرتا ہوں جو نبی کریم ﷺ نے ہمیں سکھائی۔ یہی، میرے نزدیک، حسینؓ سے سچی محبت کا راستہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حسینؓ کی محبت کے ساتھ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

برکت کیا ہوتی ہے

برکت: جس چیز کی قدر کی جائے اسی میں برکت ہوتی ہے

برکت ایک ایسا لفظ ہے جو ہم روز بولتے ہیں، مگر شاید اس کی حقیقت کو سمجھنے والے بہت کم لوگ ہیں۔ کیا برکت پیسوں میں آتی ہے؟ کیا یہ صرف دعاؤں سے ملتی ہے؟ یا اس کا تعلق کسی اور ہی چیز سے ہے؟ آج میں آپ کو ایک ایسا واقعہ سناتا ہوں جس نے میری زندگی میں برکت کے معنی ہی بدل دیے۔

برکت کیا ہوتی ہے؟

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ برکت کا مطلب صرف زیادہ پیسہ، زیادہ رزق یا زیادہ سامان ہونا ہے۔ مگر حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔ برکت کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ جو چیز آپ کے پاس ہے، چاہے وہ کم ہو یا زیادہ، وہ آپ کے لیے فائدہ مند، پائیدار اور با اثر بن جائے۔ برکت کسی چیز کی مقدار میں نہیں بلکہ اس کی قدر اور دیرپائی میں چھپی ہوتی ہے۔

اور یہ بات صرف میری رائے نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا اصول ہے جسے میں نے خود اپنی زندگی میں محسوس کیا۔ جس چیز کی ہم قدر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اسی میں برکت عطا فرما دیتا ہے۔ اور جس چیز کو ہم ہلکا سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں، وہ چیز چاہے کتنی ہی قیمتی ہو، اپنی برکت کھو دیتی ہے۔

ایک پرانے قلم کی کہانی

مجھ سے کسی نے ایک دن پوچھا کہ برکت کیا ہوتی ہے؟ یہ سوال سن کر میں نے اسے کوئی لمبی چوڑی تقریر نہیں کی، بلکہ ایک سادہ سا سوال کر دیا۔ میں نے پوچھا، تمہاری جیب میں جو قلم ہے، یہ کب لیا تھا؟ اس نے فوراً جواب دیا کہ میں تو روز ہی قلم بدل لیتا ہوں، کبھی ٹوٹ جاتا ہے، کبھی کھو جاتا ہے، کبھی بس اچھا نہیں لگتا تو دوسرا خرید لیتا ہوں۔

یہ سن کر میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور اپنا قلم نکالا۔ میں نے اس سے کہا کہ یہ وہی قلم ہے جو میں نے اس وقت لیا تھا جب میں پڑھتا تھا۔ آج پورے اٹھارہ سال گزر چکے ہیں اور یہ قلم اب بھی میرے پاس ہے، میرے ساتھ ہے، اور بالکل ٹھیک حالت میں کام کر رہا ہے۔ میں نے اس سے کہا، اسی کو برکت کہتے ہیں۔
جس چیز کی قدر کی جائے، اللہ تعالیٰ اسی میں برکت ڈال دیتا ہے

آج برکت کیوں نہیں ہے؟

یہ سوال ہر دوسرے بندے کے ذہن میں آتا ہے کہ آج برکت کیوں نہیں ہے، ہر کوئی تنگ دست کیوں نظر آتا ہے، حالانکہ پہلے کے مقابلے میں آج وسائل کہیں زیادہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے چیزوں کے ساتھ اپنا رشتہ بدل دیا ہے۔

آج کل کے گھروں میں دیکھیں تو الماریاں بھری ہوئی ملتی ہیں، چیزیں ڈھیر کی صورت میں پڑی رہتی ہیں، یہاں تک کہ ان پر گرد جمع ہو جاتی ہے، کیڑے پڑ جاتے ہیں، مگر استعمال نہیں ہوتیں۔ جو چیز پسند آ جاتی ہے، اسی کو بار بار استعمال کیا جاتا ہے، اور باقی چیزیں جو کسی وجہ سے ناپسند ہو جاتی ہیں، انہیں ایک طرف پھینک دیا جاتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی نئی اور قیمتی ہوں۔

یہی وہ رویہ ہے جو برکت کا راستہ روک دیتا ہے۔ جب ہم کسی چیز کی ناشکری کرتے ہیں، اسے بے قدر سمجھتے ہیں، تو وہ چیز خواہ مادی طور پر ہمارے پاس موجود رہے، اپنی روحانی برکت کھو بیٹھتی ہے۔

یہ اصول صرف چیزوں تک محدود نہیں

یہ بات صرف قلم یا کسی ایک چیز تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر پہلو پر لاگو ہوتی ہے۔ چاہے وہ رزق ہو، رشتے ہوں، وقت ہو یا صحت، اصول ایک ہی ہے۔

  • جو شخص اپنے رزق کی قدر کرتا ہے، تھوڑے میں بھی شکر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے تھوڑے رزق میں بھی کشادگی ڈال دیتا ہے۔
  • جو شخص اپنے رشتوں کی قدر کرتا ہے، چھوٹی باتوں پر رشتے نہیں توڑتا، وہ رشتے زیادہ مضبوط اور پائیدار ہوتے ہیں۔
  • جو شخص اپنے وقت کی قدر کرتا ہے، اسے ضائع نہیں کرتا، اس کا وقت کہیں زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔
  • جو شخص اپنی صحت اور جسم کی قدر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے زیادہ عرصے تک تندرستی سے نوازتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بعض لوگوں کے پاس بہت کم وسائل ہوتے ہیں مگر ان کی زندگی میں سکون اور کشادگی نظر آتی ہے، اور بعض لوگوں کے پاس بے شمار وسائل ہوتے ہیں مگر پھر بھی ایک عجیب سی بے برکتی اور بے سکونی محسوس ہوتی ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر سے برکت

دینِ اسلام میں بھی شکر اور قناعت کو برکت کا اصل سبب قرار دیا گیا ہے۔ شکر کرنے سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، اور ناشکری کرنے سے نعمتیں چھن جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جو ہماری روزمرہ زندگی میں ہر روز ثابت ہوتا نظر آتا ہے، چاہے ہم اسے محسوس کریں یا نہ کریں۔

جب انسان اپنی نعمتوں کی قدر کرتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی نظر آئیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں اطمینان اور اس کی زندگی میں کشادگی پیدا کر دیتا ہے۔ اور جب انسان نعمتوں کو معمولی سمجھ کر ان کی ناشکری کرتا ہے، تو وہی نعمتیں اس کے لیے بے برکت ثابت ہوتی ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ برکت کسی چیز کی قیمت یا مقدار میں نہیں، بلکہ اس کی قدر اور شکر گزاری میں چھپی ہوتی ہے۔ اگر ہم چیزوں، رشتوں، وقت اور رزق کی قدر کرنا سیکھ لیں تو وہی پرانا قلم، وہی پرانا رشتہ، وہی محدود رزق ہمارے لیے بہت بڑی برکت بن جاتا ہے۔ آج سے کوشش کریں کہ جو کچھ بھی آپ کے پاس ہے، اس کی قدر کریں، اسے ضائع نہ کریں، اور دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اس میں برکت ڈال دیتا ہے۔