برکت: جس چیز کی قدر کی جائے اسی میں برکت ہوتی ہے
برکت کیا ہوتی ہے؟
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ برکت کا مطلب صرف زیادہ پیسہ، زیادہ رزق یا زیادہ سامان ہونا ہے۔ مگر حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔ برکت کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ جو چیز آپ کے پاس ہے، چاہے وہ کم ہو یا زیادہ، وہ آپ کے لیے فائدہ مند، پائیدار اور با اثر بن جائے۔ برکت کسی چیز کی مقدار میں نہیں بلکہ اس کی قدر اور دیرپائی میں چھپی ہوتی ہے۔
اور یہ بات صرف میری رائے نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا اصول ہے جسے میں نے خود اپنی زندگی میں محسوس کیا۔ جس چیز کی ہم قدر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اسی میں برکت عطا فرما دیتا ہے۔ اور جس چیز کو ہم ہلکا سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں، وہ چیز چاہے کتنی ہی قیمتی ہو، اپنی برکت کھو دیتی ہے۔
ایک پرانے قلم کی کہانی
یہ سن کر میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور اپنا قلم نکالا۔ میں نے اس سے کہا کہ یہ وہی قلم ہے جو میں نے اس وقت لیا تھا جب میں پڑھتا تھا۔ آج پورے اٹھارہ سال گزر چکے ہیں اور یہ قلم اب بھی میرے پاس ہے، میرے ساتھ ہے، اور بالکل ٹھیک حالت میں کام کر رہا ہے۔ میں نے اس سے کہا، اسی کو برکت کہتے ہیں۔
آج برکت کیوں نہیں ہے؟
یہ سوال ہر دوسرے بندے کے ذہن میں آتا ہے کہ آج برکت کیوں نہیں ہے، ہر کوئی تنگ دست کیوں نظر آتا ہے، حالانکہ پہلے کے مقابلے میں آج وسائل کہیں زیادہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے چیزوں کے ساتھ اپنا رشتہ بدل دیا ہے۔
آج کل کے گھروں میں دیکھیں تو الماریاں بھری ہوئی ملتی ہیں، چیزیں ڈھیر کی صورت میں پڑی رہتی ہیں، یہاں تک کہ ان پر گرد جمع ہو جاتی ہے، کیڑے پڑ جاتے ہیں، مگر استعمال نہیں ہوتیں۔ جو چیز پسند آ جاتی ہے، اسی کو بار بار استعمال کیا جاتا ہے، اور باقی چیزیں جو کسی وجہ سے ناپسند ہو جاتی ہیں، انہیں ایک طرف پھینک دیا جاتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی نئی اور قیمتی ہوں۔
یہی وہ رویہ ہے جو برکت کا راستہ روک دیتا ہے۔ جب ہم کسی چیز کی ناشکری کرتے ہیں، اسے بے قدر سمجھتے ہیں، تو وہ چیز خواہ مادی طور پر ہمارے پاس موجود رہے، اپنی روحانی برکت کھو بیٹھتی ہے۔
یہ اصول صرف چیزوں تک محدود نہیں
یہ بات صرف قلم یا کسی ایک چیز تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر پہلو پر لاگو ہوتی ہے۔ چاہے وہ رزق ہو، رشتے ہوں، وقت ہو یا صحت، اصول ایک ہی ہے۔
- جو شخص اپنے رزق کی قدر کرتا ہے، تھوڑے میں بھی شکر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے تھوڑے رزق میں بھی کشادگی ڈال دیتا ہے۔
- جو شخص اپنے رشتوں کی قدر کرتا ہے، چھوٹی باتوں پر رشتے نہیں توڑتا، وہ رشتے زیادہ مضبوط اور پائیدار ہوتے ہیں۔
- جو شخص اپنے وقت کی قدر کرتا ہے، اسے ضائع نہیں کرتا، اس کا وقت کہیں زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔
- جو شخص اپنی صحت اور جسم کی قدر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے زیادہ عرصے تک تندرستی سے نوازتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض لوگوں کے پاس بہت کم وسائل ہوتے ہیں مگر ان کی زندگی میں سکون اور کشادگی نظر آتی ہے، اور بعض لوگوں کے پاس بے شمار وسائل ہوتے ہیں مگر پھر بھی ایک عجیب سی بے برکتی اور بے سکونی محسوس ہوتی ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے برکت
دینِ اسلام میں بھی شکر اور قناعت کو برکت کا اصل سبب قرار دیا گیا ہے۔ شکر کرنے سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، اور ناشکری کرنے سے نعمتیں چھن جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جو ہماری روزمرہ زندگی میں ہر روز ثابت ہوتا نظر آتا ہے، چاہے ہم اسے محسوس کریں یا نہ کریں۔
جب انسان اپنی نعمتوں کی قدر کرتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی نظر آئیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں اطمینان اور اس کی زندگی میں کشادگی پیدا کر دیتا ہے۔ اور جب انسان نعمتوں کو معمولی سمجھ کر ان کی ناشکری کرتا ہے، تو وہی نعمتیں اس کے لیے بے برکت ثابت ہوتی ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں