علاؤالدین کی کہانی

علاؤ الدین کی کہانی – ایک ویڈیو جس نے دل موہ لیا

علاؤ الدین اور جادوئی چراغ – ایک ویڈیو جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا

ایک پرانی کہانی، لیکن سبق آج بھی وہی

کل رات کام سے واپسی پر، جب موٹر سائیکل کھڑی کر کے تھوڑی دیر آرام کر رہا تھا، میں نے موبائل پر ایک ویڈیو دیکھی۔ ویڈیو علاؤ الدین اور جادوئی چراغ کی مشہور کہانی پر بنی تھی۔ بچپن میں یہ کہانی کہیں سنی تھی، مگر آج جب دوبارہ دیکھی تو ایک الگ ہی نظر سے دیکھنے کو ملی۔ سوچا کیوں نہ یہ کہانی اپنے الفاظ میں آپ سب کے ساتھ بھی شیئر کروں، کیونکہ اس میں صرف جادو اور شہزادیوں کا قصہ نہیں، بلکہ محنت، صبر اور تقدیر کا ایک گہرا سبق بھی چھپا ہوا ہے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ مشرق کے کسی دور دراز علاقے میں ایک رات گہرا اندھیرا چھایا ہوا تھا، اور ریت کا طوفان چل رہا تھا۔ اسی رات کے آخری پہر میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام علاؤ الدین رکھا گیا۔ نہ اسے کوئی جانتا تھا، نہ کسی کو خبر تھی کہ یہ بچہ آگے چل کر کیسی زندگی گزارے گا۔ وہ اپنی والدہ کے سائے میں غریبی میں پلا بڑھا، اور اسی علاقے کی تنگ گلیوں میں اپنا بچپن گزارا۔

عجیب بات یہ ہے کہ اسی رات، اسی شہر میں، بادشاہ کے محل میں ایک خوبصورت شہزادی، یاسمین، بھی پیدا ہوئی۔ وہ اپنے ننھے سے پالتو پرندے کے ساتھ محل کی رونقوں میں پلی، مگر اس کا دل ہمیشہ کسی اور دنیا کو دیکھنے کے لیے تڑپتا تھا۔ وہ اکثر نقاب اوڑھ کر بازار نکل جاتی، تاکہ عام لوگوں کی طرح آزادی سے چل پھر سکے، اور کوئی اسے پہچان نہ سکے۔

ادھر علاؤ الدین اپنی ماں کا سہارا بننے کے لیے روزانہ بازار میں مزدوری کرتا اور جو کچھ کما پاتا، گھر لے آتا۔ ایک دن وہ بازار سے گزر رہا تھا کہ ایک عجیب و غریب شکل کے آدمی نے اسے آواز دی۔ علاؤ الدین نے سوچا شاید اسے نہیں بلایا جا رہا، مگر جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ آدمی واقعی اسی کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ قریب جانے پر اس آدمی نے سرگوشی میں کہا کہ اگر وہ اس کا ایک چھوٹا سا کام کر دے تو بدلے میں اسے سونے کا ایک صندوق ملے گا۔

یہاں مجھے رک کر سوچنا پڑا۔ کتنی بار ہماری زندگی میں بھی ایسے لوگ آتے ہیں جو ہمیں جلد امیر بننے کے، آسان راستے کے، بغیر محنت کے فائدے کے خواب دکھاتے ہیں۔ علاؤ الدین کے ذہن میں بھی یہی خیال آیا کہ اگر اس نے یہ کام کر دیا تو شاید وہ اور اس کی ماں بغیر محنت کیے سکون سے زندگی گزار سکیں گے۔ غربت انسان کو کبھی کبھار ایسی پیشکشوں کے آگے کمزور کر دیتی ہے، اور یہی وہ لمحہ تھا۔

اس آدمی نے علاؤ الدین کو رسی سے باندھ کر ایک گہرے کنویں میں اتار دیا۔ نیچے اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس نے جیب سے ماچس نکالی اور جلائی، تو اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں۔ چاروں طرف ہیرے، جواہرات اور سونا بکھرا پڑا تھا۔ اسی خزانے کے درمیان اسے ایک پرانا سا چراغ ملا، وہی چراغ جس کا اس آدمی نے ذکر کیا تھا۔

علاؤ الدین نے اوپر آواز دی کہ چراغ مل گیا ہے۔ آدمی نے جلدی سے رسی نیچے پھینکی، مگر جیسے ہی علاؤ الدین کنویں کے منہ کے قریب پہنچا، اس آدمی نے چراغ چھیننے کی کوشش کی اور اسے دھکا دے کر واپس گرا دیا۔ چراغ بھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر علاؤ الدین کے سر پر جا لگا۔ آدمی غصے میں بپھر گیا اور کوئی اور ترکیب سوچنے لگا۔

کئی دن علاؤ الدین اسی کنویں میں پھنسا رہا۔ مدد کے لیے پکارتا رہا، مگر کوئی سننے والا نہ تھا۔ یہ حصہ سنتے ہوئے مجھے اپنی زندگی کے وہ لمحات یاد آئے جب حالات بہت مشکل لگتے ہیں، جب دعا کے باوجود لگتا ہے کوئی سننے والا نہیں، مگر اللہ کی مدد اکثر ٹھیک اسی وقت آتی ہے جب ہم مایوس ہونے کے قریب ہوتے ہیں۔ ایک دن اسی اندھیرے میں علاؤ الدین کی نظر ایک چمکتی ہوئی انگوٹھی پر پڑی۔ اس نے وہ انگوٹھی اٹھا کر انگلی میں پہن لی، اور اچانک اس میں سے ایک جن نمودار ہوا جس نے کہا کہ تین خواہشیں مانگو، پوری کروں گا۔

علاؤ الدین نے سب سے پہلے یہی مانگا کہ اسے اس کنویں سے نکالا جائے۔ جن نے فوراً یہ خواہش پوری کر دی، اور ساتھ چراغ بھی اس کے ساتھ ہی باہر آ گیا۔ خوشی خوشی گھر کی طرف بھاگتے ہوئے راستے میں اس کی ٹکر یاسمین سے ہو گئی، جس کا نقاب اس ٹکراؤ میں اتر گیا۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہی رہ گئے، پھر شرمندگی سے معذرت کر کے اپنے اپنے راستے چلے گئے، مگر دونوں کے دل میں ایک انوکھا سا احساس ٹھہر گیا تھا۔

گھر پہنچ کر علاؤ الدین نے اپنی ماں کو سارا واقعہ سنایا اور چراغ دکھایا۔ ماں نے چراغ کو صاف کرنا چاہا تو اس میں سے ایک نیلے رنگ کا جن ظاہر ہوا، جس نے خدمت کی پیشکش کی۔ کھانے کی خواہش کی گئی تو پلک جھپکتے ہی دسترخوان لذیذ کھانوں سے سج گیا۔

یہاں ایک بات میرے دل کو لگی: نعمتیں اکثر ہمارے پاس کسی معمولی، بے قدر چیز کی صورت میں پڑی ہوتی ہیں، جب تک ہم انہیں صاف کر کے، محنت سے استعمال کرنا نہ سیکھیں، ان کی اصل برکت سامنے نہیں آتی۔

وقت گزرنے کے ساتھ علاؤ الدین نے ایک عالیشان محل تعمیر کروایا اور امیر ہو گیا۔ ادھر سلطان کے ایک گارڈ نے بادشاہ کو بتایا کہ شہزادی یاسمین کو بازار میں عام لوگوں کے درمیان دیکھا گیا ہے۔ سلطان نے غصے میں یاسمین کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔ یاسمین اسی اجنبی لڑکے کی یاد میں گم رہنے لگی جس سے بازار میں ٹکراؤ ہوا تھا۔

سلطان کو جب علاؤ الدین کے شاندار محل کا علم ہوا تو اسے بلوایا اور شرط رکھی کہ اگر وہ چالیس سپاہی، سونے کے صندوقوں کے ساتھ، اس کے حضور پیش کرے تو اپنی بیٹی کی شادی اس سے کر دے گا۔ جب شہزادی نے علاؤ الدین کو محل میں دیکھا تو دوڑتی ہوئی باپ کے پاس گئی اور کہا کہ وہ اسی لڑکے سے شادی کرے گی۔ اگلے دن شرط پوری ہوئی اور شادی کی رسم ادا کر دی گئی۔

کچھ عرصے بعد، جب علاؤ الدین گھر پر موجود نہیں تھا، وہی عجیب آدمی ایک پیادے کے بھیس میں محل کے پاس سے گزرا اور آواز لگاتا رہا کہ پرانی چیزیں دو، نئی لے لو۔ یاسمین کو اندازہ نہ تھا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے کبھی علاؤ الدین کو کنویں میں دھکیلا تھا۔ اس نے پرانا چراغ دے کر نیا لے لیا۔

آدمی نے فوراً چراغ رگڑا، جن کو حکم دیا کہ محل اور شہزادی سمیت اسے دور صحرا میں پہنچا دے۔ پلک جھپکتے ہی محل غائب ہو گیا۔ کچھ دیر بعد جب علاؤ الدین واپس آیا اور یہ منظر دیکھا تو پریشان ہو گیا۔ اس نے فوراً اپنی انگوٹھی والے جن کو بلایا، جس نے دو خواہشیں پوری کرنے کی پیشکش کی۔ علاؤ الدین نے کہا مجھے یاسمین تک پہنچا دو۔

چند ہی لمحوں میں وہ چپکے سے محل میں داخل ہوا، اور دیکھا کہ یاسمین اسی آدمی کی خدمت پر مجبور ہے۔ اپنی تیسری خواہش میں اس نے کہا کہ اس ظالم آدمی کو پرندہ بنا دیا جائے، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ آدمی پرندہ بن کر اڑ گیا۔ اس کے بعد علاؤ الدین اور یاسمین خوشی خوشی اپنی زندگی گزارنے لگے۔


ویڈیو ختم ہونے کے بعد میں کافی دیر تک سوچتا رہا۔ یہ کہانی صرف جادو اور شہزادوں کی نہیں، بلکہ اس بات کی گواہی ہے کہ انسان کی نیت اور محنت ہی اصل قسمت بناتی ہے۔ علاؤ الدین کی غربت اسے شارٹ کٹ کی طرف لے گئی تھی، مگر جب اس نے صبر کیا، محنت جاری رکھی، اور اللہ کی مدد پر بھروسہ کیا، تب جا کر اسے وہ برکت ملی جس کا وہ حقدار تھا۔ ہم میں سے بھی اکثر لوگ، خاص طور پر ہم جیسے محنت کش لوگ جو دن رات کام کر کے روزی کماتے ہیں، کبھی نہ کبھی ایسے موڑ پر پہنچتے ہیں جہاں آسان راستہ لبھاتا ہے۔ مگر یہ کہانی یاد دلاتی ہے کہ حقیقی برکت صبر اور محنت ہی سے آتی ہے۔

اللہ ہم سب کو صبر، حلال رزق اور اپنی محنت پر بھروسہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں