پردہ: اصلی مطلب اور آج کا اُلٹا مفہوم


 # پردہ: اصلی مطلب اور آج کا اُلٹا مفہوم


آج کل پردے کو لوگ بالکل الٹے طریقے سے سمجھنے لگے ہیں۔ عورتیں عام طور پر پردہ نہیں کرتیں، اور جب کرتی ہیں تو صرف مولوی حضرات کے سامنے — بس اُن کے سامنے چادر اوڑھ لی اور کہہ دیا کہ "یہاں پردہ کرنا چاہیے۔" حالانکہ پردہ صرف ایک جگہ کا نہیں، بلکہ ہر جگہ کا حکم ہے — چاہے گھر ہو، بازار ہو، دفتر ہو یا سڑک۔


---


## پردے کا اصلی مطلب


سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پردہ ہے کیا۔


بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ پردہ صرف ایک کپڑا ہے — بس سر ڈھک لو، کام ہو گیا۔ لیکن یہ بات درست نہیں۔ پردے کا اصل مقصد یہ ہے کہ کوئی اجنبی یا بدنیّت شخص آپ کو دیکھ کر پہچانے نہیں، اور پہچان کر تکلیف نہ دے۔ یعنی پردہ دراصل ایک ڈھال ہے — عزت کی بھی اور حفاظت کی بھی۔


مثال کے طور پر — ایک پولیس افسر وردی میں ہوتا ہے۔ وردی کیوں پہنتا ہے؟ اس لیے کہ لوگ اسے پہچانیں، عزت کریں، اور کوئی غلط حرکت کرنے سے پہلے دو بار سوچے۔ بالکل اسی طرح مسلمان عورت کا پردہ اُس کی پہچان ہے — یہ بتاتا ہے کہ یہ ایک باعزت، با ایمان عورت ہے۔ اس پہچان کی وجہ سے نیک لوگ اس کا احترام کرتے ہیں اور بُرے لوگ قریب آنے سے ڈرتے ہیں۔


---


## قرآن کیا کہتا ہے؟


اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:


> **"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ"**

> *(سورہ احزاب، آیت 59)*


ترجمہ: *"اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔ یہی زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچانی جائیں اور انہیں کوئی تکلیف نہ دے۔"*


غور کریں — اللہ نے فرمایا **"تاکہ وہ پہچانی جائیں۔"** یعنی پردے کا مقصد چھپنا نہیں، بلکہ پہچانا جانا ہے۔ پہچانی جائے گی تو لوگ اس کی حیثیت سمجھیں گے اور تکلیف دینے سے پہلے سوچیں گے۔


یہ اللہ کا حکم ہے — اور اس حکم میں عورت کی عزت اور حفاظت دونوں پوشیدہ ہیں۔


---


## ہمارے معاشرے کی اُلٹی سوچ


افسوس کہ ہمارے معاشرے میں پردے کا بالکل اُلٹا مفہوم پھیلا دیا گیا ہے۔


آج کل کا چلن یہ ہے کہ جہاں "پردے والا ماحول" ہو، وہاں پردہ کرو — اور جہاں نہ ہو، وہاں چھوڑ دو۔ یعنی:


- **بازار میں** — جہاں ہزاروں اجنبی نظریں ہوتی ہیں — وہاں کوئی پردہ نہیں۔

- **دفتر میں** — جہاں روزانہ غیر مردوں سے واسطہ پڑتا ہے — وہاں کوئی پردہ نہیں۔

- **کالج میں** — جہاں جوان لڑکے اور لڑکیاں ساتھ بیٹھتے ہیں — وہاں کوئی پردہ نہیں۔

- لیکن **مولوی صاحب کے سامنے** — جہاں اصل میں محرم یا قابلِ اعتماد شخص ہے — وہاں فوری چادر اوڑھ لی!


یہ کیسا پردہ ہے؟


ایک سادہ مثال لیں — ایک گھر کا دروازہ تالا لگا ہوا ہے۔ گھر والے اندر سے تالا کھول دیں اور باہر لٹکا دیں — تو کیا گھر محفوظ ہوگا؟ نہیں۔ بالکل اسی طرح جب پردہ وہاں کیا جائے جہاں ضرورت نہیں، اور وہاں نہ کیا جائے جہاں ضرورت ہے — تو وہ پردہ نہیں، محض ایک دکھاوا ہے۔


---


## پردہ صرف کپڑا نہیں، رویّہ بھی ہے


ایک اور بات جو لوگ بھول جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ پردہ صرف جسم ڈھکنے کا نام نہیں۔ پردے میں نظر کا پردہ بھی ہے، بات کرنے کا پردہ بھی ہے، اور چال ڈھال کا پردہ بھی ہے۔


قرآن نے عورتوں کو حکم دیا کہ پاؤں زور سے نہ مارو کہ چھپی ہوئی زینت ظاہر ہو۔ یعنی اللہ نے اتنی باریکی تک سوچی ہے۔ لیکن ہم نے پردے کو صرف ایک دوپٹے تک محدود کر دیا — وہ بھی گردن پر رکھنے کی حد تک۔


ایک لڑکی سر پر دوپٹہ رکھے، لیکن تنگ کپڑے پہنے، اونچی آواز میں بات کرے، بے پردہ ماحول میں بے تکلف گھومے — تو کیا یہ پردہ ہے؟ نہیں۔ یہ پردے کی روح کے خلاف ہے۔


---


## آج کی نسل کو کیا سمجھنا چاہیے؟


آج کی نوجوان لڑکیوں سے میری گزارش ہے — پردے کو بوجھ نہ سمجھو، یہ تمہاری طاقت ہے۔ دنیا میں جتنی بھی عورتیں بے پردہ پھرتی ہیں، کیا وہ محفوظ ہیں؟ کیا اُنہیں تکلیف نہیں دی جاتی؟ ہر روز خبریں آتی ہیں — چھیڑ چھاڑ، ظلم، بے عزتی۔ پردہ اس سب سے ایک حد تک بچاتا ہے — اس لیے نہیں کہ مرد اچھے ہو جاتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ پردے والی عورت کی پہچان اور وقار ہوتا ہے۔


اور ماؤں سے گزارش ہے — بچیوں کو پردہ صرف "مولوی سے ڈرنے" کے لیے نہ سکھائیں۔ انہیں سمجھائیں کہ یہ اللہ کا حکم ہے، اور اس حکم میں اُن کی اپنی بھلائی ہے۔


---


## نتیجہ


پردہ کوئی پابندی نہیں، یہ اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے — عزت کا، حفاظت کا، پہچان کا۔ اسے صرف مولوی صاحب کے سامنے نہ اوڑھیں اور باہر نکل کر اُتار دیں۔ اسے وہاں اوڑھیں جہاں اصل میں ضرورت ہے — بازار میں، سڑک پر، دفتر میں، کالج میں۔


اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


**آمین۔**

1 تبصرہ: