تین گھنٹے کا انتظار اور ایک سبق جو زندگی بھر یاد رہے گا
میں ایک ڈلیوری بوائے ہوں۔
یہ جملہ لکھتے ہوئے مجھے نہ شرم آتی ہے نہ افسوس — بس ایک سچ ہے جو میں نے قبول کر لیا ہے۔ لیکن آج جو ہوا، وہ صرف ایک دن کی بات نہیں تھی۔ وہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے میری سوچ کو ہلا کر رکھ دیا۔
وہ تین گھنٹے
آج میں شہر کے ایک مشہور ریسٹورنٹ کے باہر بیٹھا تھا۔ انتظار میں۔ تین گھنٹے۔
ڈلیوری بوائے کی زندگی میں انتظار ہی سب سے بڑا کام ہے — آرڈر کا انتظار، کھانے کا انتظار، گاہک کا انتظار۔ لیکن آج کا انتظار ذرا بھاری تھا کیونکہ دل پہلے سے بوجھل تھا۔
مہنگائی، گھر کا خرچہ، اور جیب جو ہمیشہ خالی رہتی ہے — یہ سب باتیں دماغ میں گھوم رہی تھیں۔
پھر ایک آرڈر لگا۔ دل میں خوشی ہوئی — چلو آج کچھ تو ہوگا۔
لیکن وہ آرڈر بھی کینسل ہو گیا۔
تین گھنٹے بیٹھ کر انتظار کیا — اور نتیجہ صفر۔ اس لمحے جو احساس ہوا، وہ صرف پیسوں کا نہیں تھا۔ وہ احساس تھا کہ یار، یہ کیسی زندگی ہے؟ کیا یہی میری قسمت ہے؟
گدھے والی ریڑھی
میں انہی سوچوں میں ڈوبا تھا کہ اچانک میری نظر سڑک پر پڑی۔
ایک آدمی گدھے کی ریڑھی پر اپنی بیوی اور بچوں کو بٹھا کر جا رہا تھا۔ نہ جوتا پاؤں میں، نہ ڈھنگ کا کپڑا، نہ چہرے پر کوئی سکون۔
بچپن سے سنتا آیا ہوں — بزرگ کہتے ہیں، کتابوں میں لکھا ہے کہ "اوپر والوں کو مت دیکھو، نیچے والوں کو دیکھو تو شکر پیدا ہوگا۔"
اور آج وہی ہوا۔ فوراً دل میں ایک خیال آیا:
میرے پاس پہننے کو ہے، ان کے پاس چپل نہیں۔
میرے پاس کھانا ہے، ان کے بچے بھوکے ہیں۔
میرے پاس جیب میں چند پیسے ہیں، ان کے پاس کچھ نہیں۔
میرا ایک چھوٹا سا گھر ہے، یہ بے گھر ہیں۔
دل میں شکر آیا — اور تھوڑی دیر کے لیے وہ بوجھ ہلکا ہو گیا جو تین گھنٹے سے اٹھا رہا تھا۔
پھر ایک عجیب منظر
میں دیکھ رہا تھا کہ لوگ آ رہے ہیں اور اس غریب خاندان کو دے رہے ہیں۔
ایک نے کھانا دیا۔ ایک نے ہزار کا نوٹ نکالا۔ ایک گاڑی والے نے بڑا نوٹ پکڑایا۔ اور ایک نے اس مشہور ریسٹورنٹ سے بڑا شاپر بھر کے کھانا دے دیا۔
میں سوچ رہا تھا — ماشاءاللہ، لوگ بھی کتنے اچھے ہیں۔
لیکن پھر کچھ ایسا ہوا جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔
اس عورت نے — جو وہاں بیٹھی تھی — جو کھانا اور پیسے ملے تھے، وہ اپنے دوپٹے کے نیچے چھپا لیے۔ اور پھر دوبارہ مانگنا شروع کر دیا۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
ہر دس منٹ میں بیس تیس گاڑیاں گزرتیں — اور یہ مسلسل ہاتھ پھیلائے کھڑے۔
وہ سوال جو دل میں آیا
میں نے سوچا — کیا میں بھی یہ کر سکتا ہوں؟
بس ہاتھ پھیلا دوں، تین گھنٹے کے بجائے تین منٹ میں کام ہو جائے؟
لیکن دل نے فوراً انکار کیا — نہیں یار، یہ میرے بس کا نہیں۔
اسی سوچ میں بیٹھا تھا کہ میرے پاس ایک اور ڈلیوری بوائے آ کر بیٹھ گیا۔
وہ بات جس نے آنکھیں کھول دیں
میں نے اسے سارا ماجرا سنایا — وہ منظر، وہ غریب خاندان، وہ ہمدردی جو میرے دل میں اٹھی تھی۔
وہ مسکرایا اور بولا:
"یار، یہ لوگ پیشہ ور ہوتے ہیں۔ ان کے پاس ہم سے زیادہ پیسے ہیں۔"
پھر اس نے دو واقعے سنائے۔
پہلا — انڈیا میں ایک بھکاری مرا۔ جب لوگ اس کی جائداد گننے بیٹھے تو آٹھ گھنٹے لگ گئے گنتے گنتے۔
دوسرا — مظفرگڑھ میں ایک شخص مرا۔ کروڑوں کا مالک، بینک بیلنس بھرا ہوا، لیکن کام یہ تھا کہ ہاتھ پھیلانا۔ ایف اے پاس تھا — پڑھا لکھا آدمی — لیکن مانگنا اس کی عادت بن گئی تھی۔ اپنے بچوں کو وی آئی پی اسکولوں میں پڑھایا۔ لیکن کسی نے کہا تھا کہ خبردار رہو، کہیں بچے بھی یہی سیکھ نہ لیں۔
جب اس نے یہ باتیں بتائیں — میں بس خاموش بیٹھا رہا۔
وہ غریب جس کو دیکھ کر میں نے شکر ادا کیا تھا — وہ غریب نہیں تھا۔ اور جس کو میں نے اپنے سے "نیچے" سمجھا — وہ شاید مجھ سے زیادہ امیر تھا۔
وہ سبق جو آج مل گیا
بچپن سے سنتا آیا کہ "نیچے والوں کو دیکھو تو شکر ملے گا" — اور میں نے یہ بات سچ مانی۔
لیکن آج مجھے سمجھ آیا کہ شکر کسی کو دیکھ کر نہیں ملتا — شکر اندر سے ملتا ہے۔
اگر میں نیچے دیکھوں تو تکبر آ سکتا ہے۔
اگر اوپر دیکھوں تو حسد آ سکتا ہے۔
اور اگر صرف دوسروں کو دیکھ کر جیوں — تو میری اپنی زندگی کا کوئی مقصد نہیں رہتا۔
بس آگے بڑھ کر جینا ہے۔
نہ کسی کو دیکھ کر دکھ منانا ہے، نہ کسی کو دیکھ کر خوش ہونا ہے۔ اپنا راستہ، اپنی محنت، اپنا سفر۔
میں ڈلیوری بوائے ہوں — اور مجھے فخر ہے
لوگ سوچتے ہیں کہ ڈلیوری بوائے کی زندگی آسان ہے — بس موٹرسائیکل پر گھومتے ہیں۔
لیکن ہم وہ لوگ ہیں جو دھوپ میں بھی نکلتے ہیں اور بارش میں بھی۔ آرڈر کینسل ہو تو خاموشی سے اگلے کا انتظار کرتے ہیں۔ کوئی ہاتھ نہیں پھیلاتے، کوئی بہانہ نہیں بناتے۔
میں نے آج سیکھا کہ اپنی محنت چھوٹی نہیں ہوتی — چاہے دنیا کتنا بھی چھوٹا سمجھے۔
اور یہ بھی سیکھا کہ جو آنکھوں کو غریب لگتا ہے، وہ ضروری نہیں کہ واقعی غریب ہو — اور جو غریب دکھتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ بے چارہ ہو۔
دنیا بہت پیچیدہ ہے۔ اس کو سمجھنا ہے تو اپنی آنکھیں کھلی رکھو — لیکن اپنا سفر کبھی مت روکو۔
آج کا دن مجھے ہمیشہ یاد رہے گا — تین گھنٹے کا انتظار، ایک کینسل آرڈر، ایک گدھے کی ریڑھی، اور ایک ساتھی کی دو باتیں — جنہوں نے میری پوری سوچ بدل دی۔

فعتبروا یااولی لا بصارت؛ قل متاءالدنیاقلیل والآخرۃ خیروابقی
جواب دیںحذف کریں