اسلامی واقعات · قربانی کا فلسفہ
وہ لمحہ جب آسمان رو پڑا
«فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ»
[سورۃ الصافات: ١٠٢]حضرت اسماعیل علیہ السلام — وہ بیٹا جو بڑھاپے میں ملا تھا، جن کے لیے دعائیں مانگی گئی تھیں، جن کی پیدائش پر زمین و آسمان گواہ تھے — وہی اسماعیل اب منٰی کی وادی میں اپنے باپ کے ساتھ چل رہے تھے۔ ابراہیم علیہ السلام نے ایک رات خواب دیکھا۔ پھر دوسری رات، پھر تیسری رات۔ اور نبی کا خواب وحی ہوتا ہے — اس میں کوئی شک نہیں۔
باپ نے بیٹے سے پوچھا
وہ باپ جو دنیا کے ہر باپ سے مختلف تھا، وہ جس کا دل محبت کا سمندر تھا، اس نے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا — «اے میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، بتا تیری کیا رائے ہے؟» یہ الفاظ سنتے ہی کسی عام باپ کا کلیجہ منہ کو آ جاتا۔ مگر یہ ابراہیم تھے — اور یہ اسماعیل بھی کوئی عام بیٹا نہ تھے۔
اسماعیل علیہ السلام نے ایک لمحہ بھی نہیں سوچا۔ نہ گھبراہٹ، نہ آنسو، نہ التجا۔ بس اتنا کہا — «ابا جان! جو آپ کو حکم ہوا ہے، وہ کر گزریں، آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔» یہ جواب سن کر فرشتے بھی حیران ہو گئے ہوں گے۔ ایک تیرہ سالہ بچے کی زبان سے یہ کلمات — یہ ایمان کی وہ بلندی تھی جو صدیوں میں ایک بار آتی ہے۔
وہ لمحہ جو تاریخ نہ بھولے گی
باپ نے بیٹے کو لٹایا۔ اسماعیل علیہ السلام نے خود کہا — ابا جان، ماتھے کے بل لٹائیں تاکہ میرا چہرہ نظر نہ آئے اور آپ کا ہاتھ نہ کانپے۔ سوچیں اس لمحے کو — ایک باپ کے ہاتھ میں چھری ہے، آنکھوں میں آنسو ہیں، دل میں طوفان ہے۔ اور بیٹا — بیٹا اطمینان سے لیٹا ہے جیسے کوئی نماز کے لیے سجدے میں ہو۔ یہ تاریخ کا وہ لمحہ تھا جب زمین کا سانس رک گیا اور آسمان نے آنکھیں بند کر لیں۔
ابراہیم علیہ السلام نے چھری چلائی — مگر چھری نے کام نہ کیا۔ وہ فولاد کی چھری تھی مگر ربِّ کائنات کا حکم اس سے طاقتور تھا۔ اور پھر آواز آئی — آسمان سے، عرشِ الٰہی سے — «اے ابراہیم! تو نے خواب سچا کر دکھایا! ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی جزا دیتے ہیں۔» اور اسی لمحے ایک مینڈھا جنت سے اترا۔ اسماعیل کی جگہ وہ مینڈھا قربان ہوا۔
ہمارے نبی ﷺ اور اس قربانی کا رشتہ
یہ قربانی صرف ابراہیم اور اسماعیل کا قصہ نہیں — یہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی میراث ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «میں ابراہیم کی دعا ہوں اور عیسٰی کی بشارت۔» حضرت اسماعیل علیہ السلام انہی کی نسل سے جن کے گھر پیغمبرِ آخر الزماں نے جنم لیا۔ یعنی وہ چھری جو اس دن نہ چلی، اس کے پیچھے اللہ کی وہ حکمت تھی کہ اسماعیل کی نسل سے دنیا کا سب سے بڑا نور — محمد ﷺ — ظاہر ہونا تھا۔ اللہ اپنے منصوبوں کو خود محفوظ رکھتا ہے۔
«وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ · سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ»
[سورۃ الصافات: ١٠٨-١٠٩]آج جب ہم عید الاضحی پر قربانی کرتے ہیں تو یہ صرف ایک جانور ذبح کرنا نہیں ہوتا — یہ اس لمحے کی یاد ہے جب ایک باپ نے اللہ کے لیے سب کچھ قربان کر دیا، اور ایک بیٹے نے بلا چون و چرا اپنی گردن پیش کر دی۔ قربانی کا اصل مقصود جانور نہیں، دل ہے۔ اللہ کو خون اور گوشت نہیں چاہیے — اسے آپ کا تقویٰ چاہیے۔ جو دل ابراہیم کی طرح سر تسلیم خم کر لے، وہ دل کامیاب ہے۔
اے اللہ! ہمیں ابراہیم جیسا اخلاص عطا فرما — وہ اخلاص جو آزمائش میں ٹوٹتا نہیں بلکہ اور مضبوط ہوتا ہے۔ آمین۔
BLOG POST · SEO OPTIMISED · URDU

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں