وقت اور عبادت


 **وقت اور عبادت — ساٹھ سال کی زندگی میں صرف دو سال ہمارے**


آج میں آپ کے ساتھ ایک ایسی بات شیئر کرنا چاہتا ہوں جو میرے دل کو بہت دنوں سے بے چین کیے ہوئے تھی۔ یہ کوئی فلسفہ نہیں، کوئی لمبا چوڑا لیکچر نہیں — بس ایک سادہ سا حساب ہے جو میں نے خود لگایا اور جب نتیجہ سامنے آیا تو میں سوچ میں پڑ گیا۔


شاید آپ بھی پڑھ کر یہی محسوس کریں۔


---


## **پہلے ایک سادہ سوال**


بتائیں — آپ کا ایک دن کیسے گزرتا ہے؟


صبح اٹھتے ہیں، کام پر جاتے ہیں، تھکے ہارے واپس آتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور پھر سو جاتے ہیں۔ یہی ہے نا؟ یہی میرا بھی معمول ہے اور شاید اکثر لوگوں کا بھی۔


لیکن جب میں نے اس معمول کا حساب لگایا تو ایک عجیب سی حقیقت سامنے آئی۔


---


## **روزانہ کا حساب — اعداد جھوٹ نہیں بولتے**


ایک عام انسان کا دن کچھ اس طرح گزرتا ہے:


رات کو سونے میں **8 گھنٹے** جاتے ہیں۔ کام یا ملازمت میں **8 سے 8:30 گھنٹے** لگتے ہیں۔ ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا ملا کر **ڈیڑھ گھنٹہ** خرچ ہوتا ہے۔


یعنی صرف ان تین بنیادی کاموں میں روزانہ تقریباً **18 گھنٹے** چلے جاتے ہیں۔


24 گھنٹوں میں سے 18 گھنٹے نکال دیں تو باقی بچتے ہیں صرف **6 گھنٹے**۔


اور ان 6 گھنٹوں میں؟ گھر کے کام، بچوں کی دیکھ بھال، موبائل، ٹی وی، دوست احباب سے ملنا — یہ سب بھی اسی میں سے۔


---


## **60 سال کا حساب — نتیجہ چونکا دینے والا ہے**


اب یہی حساب پوری زندگی پر لگاتے ہیں۔


ایک انسان کی اوسط عمر تقریباً **60 سال** مانی جائے تو:


نیند میں **20 سال** گزر جاتے ہیں۔ کام کاج میں **20 سال سے زیادہ** چلے جاتے ہیں۔ کھانے پینے میں **تقریباً 3 سے 4 سال** لگ جاتے ہیں۔


یعنی ان تین کاموں میں ہی **58 سال** ختم ہو جاتے ہیں۔


ساٹھ سال کی پوری زندگی میں سے ہمارے پاس **صرف 2 سال** بچتے ہیں — اور وہ بھی باقی دنیاوی مصروفیات میں بٹے ہوئے۔


جب میں نے یہ حساب لگایا تو سچ میں دل ڈوب گیا۔


---


## **قیامت کا وہ سوال جو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے**


اب ذرا آگے سوچیں۔


قیامت کا دن آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سے پوچھے گا:


**"میں نے تجھے زندگی دی — اس میں میری عبادت میں کیا کیا؟"**


اس لمحے ہم کیا جواب دیں گے؟


کیا ہم کہیں گے کہ — **"یا اللہ، 60 سال کی زندگی میں 58 سال تو نیند، کام اور کھانے میں گزر گئے، بس 2 سال تھے ہمارے پاس..."**؟


یہ سوچ کر ہی دل کانپ جاتا ہے۔


---


## **تو پھر کیا کریں؟ — اللہ کا رحم دیکھیں**


یہاں میں آپ کو مایوس نہیں کرنا چاہتا — بلکہ ایک خوشخبری دینا چاہتا ہوں۔


اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے کچھ ایسے اعمال رکھے ہیں جو وقت بہت کم لیتے ہیں لیکن اجر بے انتہا دیتے ہیں۔


---


### **پہلا عمل — نماز کے بعد قرآن پاک**


ہر فرض نماز کے بعد اگر ہم صرف **چند آیات** قرآن پاک کی تلاوت کریں تو مہینے میں **ایک ختم** آسانی سے مکمل ہو جاتا ہے۔


سوچیں — سال میں **12 ختم** — اور وہ بھی بغیر کسی الگ وقت نکالے، صرف نماز کے بعد کے چند منٹوں میں۔


---


### **دوسرا عمل — علم شیئر کرنا**


رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:


**"جو شخص کسی کو نیک کام کی طرف رہنمائی کرے، اسے اتنا ہی اجر ملے گا جتنا عمل کرنے والے کو — اور عمل کرنے والے کے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔"**

*(صحیح مسلم)*


یعنی اگر آپ یہ مضمون کسی ایک شخص تک پہنچاتے ہیں اور وہ اس سے متاثر ہو کر قرآن پڑھنا شروع کر دے — تو اس کا پورا اجر آپ کو بھی ملے گا۔ قیامت تک۔


یہ کتنا بڑا موقع ہے!


---


### **تیسرا عمل — ذکر اور استغفار**


کام کرتے ہوئے، گاڑی چلاتے ہوئے، کھانا پکاتے ہوئے — ہر وقت زبان پر **سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر** جاری رکھیں۔


یہ اعمال وقت نہیں مانگتے — بس نیت اور توجہ مانگتے ہیں۔


---


## **میری اپنی کوشش**


میں نے جب سے یہ حساب لگایا ہے، میں نے کوشش شروع کی ہے کہ ہر نماز کے بعد چند آیات ضرور پڑھوں۔ آسان نہیں تھا شروع میں — لیکن اب عادت بن گئی ہے۔


اور جب بھی کوئی اچھی بات پڑھتا ہوں یا سنتا ہوں تو شیئر کرنے کی کوشش کرتا ہوں — اس امید پر کہ شاید کسی کے کام آ جائے اور اجر کا سلسلہ جاری رہے۔


یہ مضمون بھی اسی کوشش کا حصہ ہے۔


---


## **آخری گزارش**


وقت سب سے بڑی دولت ہے — اور یہ واپس نہیں آتا۔


آج جو لمحہ گزر گیا وہ ہمیشہ کے لیے گزر گیا۔ لیکن اگر ہم چھوٹے چھوٹے اعمال کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو شاید قیامت کے دن اللہ کے سامنے کچھ تو پیش کر سکیں۔


بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو وقت کی قدر کرنے کی توفیق دے اور ہمارے چھوٹے چھوٹے اعمال کو قبول فرمائے۔


**آمین۔**


---


*اگر یہ مضمون آپ کے دل کو لگا تو اپنے گھر والوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں — ہو سکتا ہے آپ کی ایک شیئر کسی کی زندگی بدل دے اور آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے۔*



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں