زبان! تیری ادا کیا کہہ دے، بہشت بھی ملے، جہنم بھی
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں، ان میں زبان (زبان) کا مقام سب سے منفرد اور بلند ہے۔ یہ صرف گوشت کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک ایسی تلواریں ہے جو بھلی چاہے تو دو جہاں کی سعادت لکھ دے، اور بری چاہے تو پل بھر میں انسان کو کاٹ کر رکھ دے۔ اسی لیے اللہ کے ہاں زبان کی قدر و منزلت بےحد عظیم ہے۔
سوچیے! صرف ایک لفظ "قبول ہے" کہتے ہی دو نا آشنا خاندان آپس میں جڑ جاتے ہیں۔ ایک لفظ اٹھا لے آتا ہے سارے رشتوں کی بنیاد۔ وہی زبان جب نکاح میں "قبول ہے" بول دیتی ہے تو دو خاندان، دو دلیں، دو جانیں ایک ہو جاتی ہیں۔ یہ زبان ہی ہے جو مٹی کے ان پُتلوں کو ماں، باپ، بھائی، بیٹا بنا دیتی ہے۔ کیا یہ اللہ کی قدرت نہیں کہ اس نے اِس بےزبان مٹی کو زبان کی نعمت سے سرفراز فرمایا؟
اور ذرا غور کیجیے! یہی زبان اگر کہیں "بھگوان" کہہ دے تو انسان کفر کے اندھیروں میں جا گرتا ہے۔ جی ہاں! اسی زبان نے کبھی لوگوں کو بت پرست بنایا، کبھی آگ پوجنے والا، کبھی درختوں کو سجدہ کرنے والا۔ ایک لفظ "بھگوان" انسان کو توحید کے دائرے سے نکال کر شرک کی گہرائیوں میں دھکیل دیتا ہے۔ اور اللہ کے نزدیک شرک سب سے بڑا ظلم ہے، سب سے بڑی ناشکری۔ زبان کی بدولت انسان رب کا باغی بن جاتا ہے۔
لیکن اسی زبان کا کمال دیکھیے! جب وہی انسان اپنی زبان سے سچے دل سے کہتا ہے "لا الٰہ الا اللہ، محمد الرسول اللہ" تو اسی لمحے وہ مشرکوں اور کافروں کی صف سے نکل کر مومنوں کی جماعت میں جا شامل ہوتا ہے۔ ایک کلمہ، بس ایک کلمہ! اُس کی زندگی بدل دیتا ہے۔ زبان کا تلفظ اس کے لیے جنت کی کنجی بن جاتا ہے۔ اللہ کے ہاں اسی زبان کی گواہی پر انسان جنت کا مستحق بن جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "بندہ کبھی کوئی کلمہ کہتا ہے جو اللہ کی رضا کا باعث ہوتا ہے، اسے اس کی اہمیت کا علم نہیں ہوتا، لیکن اللہ اس کے باعث اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے۔ اور بندہ کبھی کوئی کلمہ کہتا ہے جو اللہ کی ناراضی کا باعث ہوتا ہے، وہ اسے معمولی سمجھتا ہے، لیکن وہ کلمہ اسے ستر برس کی دوری تک جہنم میں لے جاتا ہے۔" (ترمذی)
اللہ کے ہاں زبان کی قدر کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اس نے قرآن جیسی عظیم کتاب بھی زبان ہی کے ذریعے نازل فرمائی۔ نماز، ذکر، دعا، تلاوت — سب زبان کے بغیر ادھوری ہیں۔
تو اے زبان والے انسان! سنبھل جا۔ تیری زبان یا تو تجھے بہشت کی بلندیوں تک لے جائے گی، یا جہنم کی گہرائیوں میں دھکیل دے گی۔ دو خاندان جوڑنے والا لفظ "قبول ہے" بولا جا سکتا ہے، اور توڑنے والا لفظ "طلاق" بھی۔ شرک میں ڈبونے والا لفظ "بھگوان" بھی ہے، اور نکالنے والا "لا الٰہ الا اللہ" بھی۔
چناچہ ہم اپنی اس قیمتی نعمت کو اللہ کی رضا کے راستے میں خرچ کریں۔ آج ہی ارادہ کر لیں کہ زبان سے صرف وہی نکالا جائے گا جو اللہ کو پسند ہے۔ زبان کو غیبت، جھوٹ، گالی اور فضول گوئی سے بچائیں۔ اپنے رب سے کہیں: "اے میرے اللہ! میری زبان کو تیرے ذکر سے تَر رکھ، اور میرے عمل کو شیریں زبان عطا فرما۔"
بےشک زبان کا ہر لفظ ایک امانت ہے۔ اور قیامت کے روز یہی زبان گواہی دے گی — یا تو آپ کے حق میں، یا آپ کے خلاف۔
تمنا ہے کہ ہماری زبان ہمارے لیے شفاعت کرے، نہ کہ برائی کی دلیل بنے۔ آمین
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں