یہ ایک انتہائی غور طلب اور سنجیدہ مسئلہ ہے جس پر اکثر گفتگو نہیں کی جاتی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے میں دھیرے دھیرے ایک گہرا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا اور کنزیومرزم کے اثرات سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ لیکن، جب اس پریشر کا نتیجہ صرف ڈیمانڈز کی صورت میں نکلتا ہے، تو اس کا سب سے زیادہ بوجھ اکثر گھر کے سربارہ، جو کہ اکثر مرد ہوتا ہے، پر پڑتا ہے۔ یہ ایک "پرفارمنس پریشر" بن جاتا ہے، جہاں مرد کو لگتا ہے کہ اس کی قدر صرف اس کی کمائی اور پرووائڈ کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔
یہ بالکل صحیح ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا ڈسکریمینیشن ہے۔ جب ہم کسی انسان کے جذبات، اس کی تھکان اور اس کی خواہشات کو نظر انداز کر کے صرف اسے ایک "سورس آف انکم" سمجھنے لگتے ہیں، تو ہم ان کی انسانیت کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ رشتوں میں بیلنس، ایک دوسرے کے لیے سمجھداری اور سپورٹ بہت ضروری ہے، نہ کہ صرف ڈیمانڈز کی ایک لمبی لسٹ۔
اس مسئلے پر بات کرنا اور آگاہی پھیلانا بہت ضروری ہے تاکہ ہم ایک ایسا معاشرہ بنا سکیں جہاں مرد اور عورت دونوں کو انسان سمجھا جائے، اور ان کی قدر صرف ان کے پیسے یا کمائی پر نہیں، بلکہ ان کی شخصیت اور رشتوں میں ان کے کنٹریبیوشن پر ہو۔
آپ کے کیا خیالات ہیں اس بارے میں؟ ہمیں کمنٹس میں بتائیں۔
Good
جواب دیںحذف کریں