عید کی رات

Eid Ki Raat — Ek Rider Ki Dard Bhari Kahani
Eid Special | Zindagi Ki Kahani

چاند رات کا بوجھ

جب باپ کے پاس وعدے تھے اور بچوں کی آنکھوں میں امید — ایک رائیڈر کی انتہائی دردناک کہانی

آج چاند رات ہے۔ گلیوں میں رونق ہے، بازاروں میں ہجوم ہے، بچوں کی ہنسی ہوا میں گھلی ہوئی ہے۔ لیکن ایک آدمی ہے جو اس سب کے درمیان بھی اندر سے بالکل خاموش ہے۔ وہ اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا سوچ رہا ہے — آج کیا جواب دوں گا؟

اس کا نام احمد ہے۔ فوڈ پانڈا کا رائیڈر۔ صبح سے رات تک گرمی میں جلتا ہے، آرڈر پہنچاتا ہے، مسکراتا ہے — اور اندر ہی اندر ٹوٹتا رہتا ہے۔ اس کی بیوی ہے، دو بچے ہیں، اور پچیس ہزار روپے کا قرضہ ہے جو ہر رات سونے سے پہلے یاد آتا ہے۔

"کپڑے لے دو بچوں کو — کم از کم عید پر تو کچھ نیا پہنائیں انہیں۔"

بیوی نے کہا تھا۔ پہلے اپنے لیے مانگا، پھر جب دیکھا کہ احمد کا منہ اتر گیا تو بولی — "ٹھیک ہے، اپنے لیے نہیں، بچوں کے لیے ہی لے دو۔" اور احمد نے وعدہ کر لیا — "عید سے ایک دن پہلے لے آؤں گا۔" یہ جھوٹ تھا۔ وہ جانتا تھا یہ جھوٹ ہے۔ لیکن سچ بولنے کی ہمت نہیں تھی۔ سچ بہت بھاری ہوتا ہے جب جیب خالی ہو۔

· · · · ·

کل کا دن احمد کے لیے کسی آزمائش سے کم نہ تھا۔ روزہ رکھا ہوا تھا۔ گرمی اتنی کہ موٹر سائیکل کی ٹینکی گرم لوہے کی طرح داغتی تھی۔ ایک آرڈر تھا — بندے نے کہا: "بھائی ذرا پیکج بھی لگا دو، اسی پیسے میں۔" احمد نے ہاں کر لی۔ نیکی کا جذبہ تھا، ذی الحجہ کے روزے کا آخری دن تھا، سوچا — آج بھلائی کریں گے۔

پھر موبائل نے دغا دیا۔ بار بار ہینگ ہوا۔ پانچ چھ بار بند ہوا، چھٹی بار آن کیا — ڈیٹا بند۔ ایپ بند۔ پیکج کی کوشش ادھوری رہ گئی۔ بندے نے آخر کہا: "بھائی جاؤ، رہنے دو۔" اور احمد واپس ہو گیا — ہاتھ میں کچھ نہیں، دل میں ایک اور ناکامی۔

احمد کا غم تنہا نہیں ہے۔ یہ اس ملک کے ہر اس آدمی کا غم ہے جو صبح اٹھتا ہے امید سے، اور رات کو لوٹتا ہے تھکن اور خالی ہاتھ لے کر۔ جو بچوں کو سلاتا ہے جھوٹی لوری سنا کر کہ "کل سب ہو جائے گا۔"

شام کو بھائی نے کہا: "چلو بازار چلتے ہیں۔" احمد ساتھ چلا گیا۔ کزن نے پوچھا: "عید کی شاپنگ ہو گئی؟" احمد نے مسکرا کر کہا: "ہاں، ہو گئی۔" یہ بھی جھوٹ تھا۔ لیکن اس جھوٹ کے پیچھے ایک ایسا آدمی تھا جو عزتِ نفس کو ابھی تک بچانے کی کوشش کر رہا تھا — ٹوٹتے ہوئے بھی۔

· · · · ·

گھر میں دو بچے ہیں۔ بڑے کو گرمی بہت ستاتی ہے۔ کولر نہیں ہے۔ احمد نے کئی بار سوچا — کسی طرح کولر لے آؤں۔ لیکن جب پچیس ہزار کا قرضہ ہو، تو کولر ایک خواب لگتا ہے۔ بیوی کہتی ہے کچھ نہیں — بس آنکھیں بولتی ہیں۔ اور احمد وہ آنکھیں دیکھنے سے بچتا ہے۔

آج احمد نے پانی کی ٹینکی بھری۔ مرغوں کو چارہ دیا۔ کام کیے جو بھائی نے کہے۔ خود کو مصروف رکھا — کیونکہ جب ہاتھ خالی ہوں تو آدمی دل کو بھی خالی نہ ہونے دے، اس لیے کام میں ڈوب جاتا ہے۔

"یا اللہ — کوئی راستہ بنا دے۔ کولر بھی آ جائے، کپڑے بھی آ جائیں، قرضہ بھی اتر جائے۔"

یہ دعا احمد نے آج رات مانگی — اس چاند رات میں، جب باہر دنیا خوشیاں منا رہی ہے اور وہ اپنے بچوں کے سامنے بیٹھ کر یہ سوچ رہا ہے کہ کل صبح انہیں کیا پہنا کر نماز پر لے جائے گا۔

· · · · ·

اس کی بیوی — جو کبھی شکایت نہیں کرتی، جو ہمیشہ صبر کرتی ہے — آج رات چپ ہے۔ وہ بچوں کو سلا چکی ہے۔ خود بیٹھی ہے اور شاید سوچ رہی ہے وہی جو احمد سوچ رہا ہے۔ دونوں کے درمیان الفاظ نہیں ہیں — بس ایک بھاری خاموشی ہے جو محبت سے بھری ہے اور درد سے بھی۔

مہنگائی نے جو کیا ہے اس ملک میں، وہ صرف قیمتیں نہیں بڑھائیں — اس نے لوگوں کے خواب چھوٹے کر دیے ہیں۔ احمد جیسے لاکھوں آدمی ہیں جو بچوں کے لیے نئے کپڑے نہیں خرید پاتے، جو عید پر بھی کام کرتے ہیں، جو مسکراتے ہیں لیکن اندر سے رو رہے ہوتے ہیں۔

کل عید ہے — اور احمد کو یقین ہے کہ اللہ کا کوئی دروازہ ضرور کھلے گا۔
کیونکہ جو اتنے صبر سے روزہ رکھے، اتنی محنت کرے، اتنا جھیلے —
اس کی دعا خالی نہیں جاتی۔

تحریر: احمد — ایک رائیڈر، ایک باپ، ایک شوہر

یہ کہانی میری اپنی ہے — لیکن یہ اس ملک کے ہر اس آدمی کی کہانی ہے جو خاموشی سے لڑتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں