ایک یادگار دن


 ایک یادگار دن — جب قسمت نے ٹھان لی!

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ذی الحجہ کی صبح تھی۔ ہوا میں ایک عجیب سی ٹھنڈک تھی اور دل میں سکون۔ سحری کھائی، روزہ رکھا، فجر کی نماز پڑھی اور آنکھیں خود بخود بند ہوگئیں۔ نیند نے دستک دی اور کہا — "تھوڑا میرا حق بھی ہے!" کوئی انکار بھی نہیں کر سکتا تھا، سو مان لیا۔

9:10 بجے آنکھ کھلی۔ کام پر جانا تھا، جلدی سے تیار ہوئے اور نکل پڑے۔ ابھی گلی بھی نہیں چھوڑی تھی کہ موٹر سائیکل نے ٹانگیں پھیلا دیں — بالکل اس انسان کی طرح جو کہے "میں بھی تھکا ہوا ہوں، ذرا میری بھی سنو!" مصیبت کا یہی اصول ہے، وہ کبھی وقت دیکھ کر نہیں آتی:

مصیبت آئے تو پوچھے نہیں کوئی وقت

بس آ دھمکتی ہے، یہ اس کا ہے سلیقہ

گاڑی کو ٹھیلتے ہوئے مکینک کی دکان پہنچے۔ وہاں پہنچتے ہی یاد آیا کہ پہلے سے 15 ہزار کا ادھار چڑھا ہوا ہے — اور اوپر سے مکینک نے 10 ہزار کا نیا انوائس پکڑا دیا۔ ادھار پر ادھار، گویا کھاتے کی کتاب میں ناول لکھا جا رہا ہو! لیکن کیا کریں، گاڑی بننی تھی تو بننی تھی۔

مکینک کی دکان — ایک انوکھا تجربہ

دکان میں بیٹھے تو پیٹرول کی تیز بو ناک میں گھس گئی، کھڑے ہوئے تو ڈرِل کی چیخ کانوں میں اتر گئی، باہر نکلے تو کِک اسٹارٹ کا دھاڑ پیچھا کرنے لگا۔ کانوں نے اندر سے درخواست کی — "بھائی ہم استعفیٰ دینا چاہتے ہیں!"

10 سے 12 موٹر سائیکلیں آئیں، بنیں اور خوشی خوشی چلی گئیں — ہماری والی جیسے مستقل ویٹنگ لسٹ پر تھی۔ جب پوچھا کہ کب بنے گی تو جواب آیا — "ڈیڑھ گھنٹہ!" ڈیڑھ گھنٹہ گزرا، یاد دلایا — ایک گھنٹہ اور گزر گیا۔ پھر یاد دلایا، پھر انتظار:

گھڑی کی سوئیاں چلتی رہیں بے درد

مکینک کا ڈیڑھ گھنٹہ نکلا پانچ گھنٹے کا درد

دوپہر کے 12 بجے گئے تھے اور شام کے 6 بج گئے — پانچ گھنٹے، روزہ، بھوک، پیاس اور وہ صبر جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ روزہ تھا اس لیے کچھ کھا بھی نہیں سکتے تھے، بس بیٹھے رہے اور دل کو سمجھاتے رہے۔

مسجد میں پناہ

ایک وقت ایسا آیا کہ دل نے کہا — بس اب یہاں نہیں بیٹھنا۔ اٹھے اور مسجد کی راہ لی۔ نماز پڑھی اور وہیں دری پر لمبی تان لی۔ اللہ کے گھر میں وہ سکون ملا جو مکینک کی دکان نے پانچ گھنٹوں میں نہیں دیا تھا:

مکینک نے گھنٹے لیے، پیٹرول نے ساتھ چھوڑا

مسجد کی دری پر ملا سکون جس نے دل کو جوڑا

اللہ کے گھر میں ملی وہ راحت اے دوست

جو دولت کسی دکان پر بکتی نہیں دیکھی

آنکھ کھلی تو تازہ دم تھے۔ واپس دکان پر آئے تو گاڑی ابھی بھی اسی انداز میں کھڑی تھی — جیسے کہہ رہی ہو "میں ٹھیک ہوں، تم پریشان مت ہو!" لیکن اب صبر پختہ ہو چکا تھا۔ تھوڑی دیر میں گاڑی تیار ہوئی اور جان میں جان آئی۔

گھر کی راہ — ابھی مزید آزمائشیں باقی تھیں

خوشی خوشی گھر کی طرف چلے — لیکن پیٹرول نے بھی موقع دیکھ کر دم توڑ دیا۔ گویا اسے بھی ڈرامے کا صحیح وقت معلوم تھا! گاڑی پیدل ٹھیلتے ہوئے پیٹرول پمپ پہنچے، پیٹرول ڈلوایا — ابھی سانس لی ہی تھی کہ ابو کا فون آگیا:

"26 نمبر سے پارسل لے آنا!"

ابو کا فون ہمیشہ اسی لمحے آتا ہے جب آدمی سمجھے کہ اب سب ٹھیک ہے! 😅

جب سمجھو کہ مصیبت کا سلسلہ ٹوٹا

تبھی کوئی نیا کام نکل آتا ہے روٹھا

پارسل لیا، مغرب کی نماز پڑھی اور پانی کے ایک ٹھنڈے گھونٹ سے روزہ کھولا۔ وہ ایک گھونٹ — پانچ گھنٹے کی ساری تھکاوٹ، بھوک اور پیاس جیسے اس ایک لمحے میں دھل گئی۔ روزے کی یہی تو خوبصورتی ہے — ایک گھونٹ پانی دنیا کی سب سے بڑی نعمت لگتا ہے۔

چنا چاٹ — دن کا سب سے میٹھا لمحہ

واپسی کے راستے میں ایک ریڑھی والے نے آواز لگائی — چنا چاٹ! چٹ پٹی، گرم گرم، مسالے دار! اور سچ یہ ہے کہ بھوک سے بڑھ کر کوئی مسالہ نہیں ہوتا — پانچ گھنٹے کی بھوک، پیٹرول کی بو، ڈرِل کا شور، پیدل چلنا، پارسل اٹھانا — سب کا بدلہ اس ایک پلیٹ نے چکا دیا:

پانچ گھنٹے کی بھوک، پیٹرول کی بو، ڈرِل کا شور

پھر بھی مسکراتے رہے — یہی ہے مومن کا طور

ایک پلیٹ چنا چاٹ نے کر دیا سب درست

صبر کا پھل میٹھا ہو یا چٹ پٹا — ہوتا ضرور!

کہتے ہیں ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے — اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا — آج آسانی کا نام چنا چاٹ تھا! اور دل نے کہا — الحمدللہ، آج کا دن بھی یادگار رہا! 😄

ختم شد — الحمدللہ 🌙

یہ آپ بیتی ان تمام لوگوں کے نام جو کبھی مکینک کی دکان پر روزے میں بیٹھے ہوں — آپ اکیلے نہیں ہیں!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں